جعلی ہسپتال اور عطائی ڈاکٹر موت بانٹنے میں مصروف

تحریر:۔ الطاف احمد
ای میل: altafahmad1433@gmail.com

پاکستان میں صحت کا شعبہ حکمرانوں اور انتظامیہ کی شدید غفلت کا شکارہے۔ ہمارا ہیلتھ سٹرکچر بیمار کو زندگی کی طرف لے جانے کی بجائے ذلت و رسوائی دے کر موت کی دہلیزتک پہنچا دیتا ہے۔ شدید بیماری لاحق ہوجائے تولاچار لواحقین اپنی جمع پونجی لٹانے کے ساتھ ساتھ گھرباربیچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ بڑے شہروں میں گنتی کے چند سرکاری ہسپتال ہیں جو آبادی کے تناسب سے ناکافی ہیں ۔ دیہی علاقوں میں صورتِ حال انتہائی ابتر ہے۔ مریضوں کو سینکڑوں میل سفر کرکے بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں یا تو انہیں ٹال دیا جاتا ہے یا مہینوں کا ٹائم دے دیاجاتاہے۔ بیمار بیچارے اسی شش و پنج میں رہتے ہیں کہ اگر سرکاری ہسپتال جائیں تو علاج معالجہ کی گارنٹی نہیں اور پرائیویٹ جائیں تو جیب اور جان دونوں کی کوئی گارنٹی نہیں۔
اس ساری صورت حال کا فائدہ پرائیویٹ مافیہ اٹھا رہا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتال، کلینکس اور عطائی ڈاکٹردن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں بیشتر پرائیویٹ کلینکس، ہسپتالوں اور میٹرنیٹی ہومز جعلی ڈاکٹرز چلا رہے ہوتے ہیں۔ اس مقدس شعبہ میں ایسی کالی بھیڑیں شامل ہیں جو عوام الناس کی جمع پونجی بٹورکرانہیں موت کے منہ میں دھکیل رہی ہیں۔ اسی طرح آئے روز اخبارات اور ٹی وی چینلز پر رپورٹس دیکھنے کو ملتی ہیں جس میں مسیحا قاتل بن کر درندگی کی مثالیں قائم کرتے ہیں۔
یہ لوگ کسی نام نہاد سیاسی جماعت یا صحافتی تنظیم کی آڑ میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں موت کا کاروبار کرتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگراس مافیہ کے خلاف کوئی آواز اٹھائے تو اس آواز کو دبانے کے لئے تمام اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔ دباؤ استعمال کیاجاتا ہے، دھمکیاں دی جاتی ہیں اور آواز دبانے کے لئے لوگوں کو قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ راقم الحروف کو بھی گزشتہ دنوں ایک پرائیویٹ ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے سیدھا قتل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن خوش قسمتی سے راقم اپنی کہانی بیان کرنے کے لئے زندہ ہے۔ماجرا یہ ہے کہ گزشتہ دنوں ایک قریبی عزیزہ کی عیادت کے لئے ضلع ساہیوال میں چیچہ وطنی بورا روڈ ، اڈہ 68 موڑ پر واقع ایک پرائیویٹ ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک دیہاتی علاقہ کے حساب سے دو تین کینال جگہ پر محیط یہ ہسپتال20 سے 30 بستروں پر مشتمل ہے اور اچھی لوکیشن پر واقع ہے، آپریشن تھیٹر، لیبارٹری اور 24 گھنٹے ایمرجنسی کی سہولیات کے دعوے ہسپتال کے بیرونی دیوار پر درج تھے۔ اس ہسپتال میں صفائی کا انتہائی ناقص انتطام تھا اور ہسپتال کوئی مسافر خانہ لگ رہا تھا۔
مریضہ کو ہسپتال میں چیک اپ کے لئے لایا گیا تھا جسے وہاں پر موجود لیڈی ڈاکٹر(جعلی)نے چیک اپ کے بعد داخل کر لیا۔ مریضہ کو 20 گھنٹے داخل رکھا گیا لیکن مریضہ کے مرض کے بارے میں لواحقین کو دھوکے میں رکھا گیا۔ 20 گھنٹے بعد جب لواحقین کا ضبط جواب دے گیا تو انہوں نے راقم نے انتظامیہ میں موجود مسٹر افضل خان لودھی سے درخواست کی کہ جناب ہماری ڈاکٹر سے بات کروا دیں۔ جناب فرمانے لگے آپ حکم کریں کیا مسئلہ ہے۔ عرض کی جناب 20 گھنٹے سے ہمارا مریض داخل ہے اور کوئی علاج معالجہ نہیں ہورہا اور نہ ہمیں اعتماد میں لیا جارہا ہے، آپ ڈاکٹر کو بلا دیں، ہم ان سے بات کر لیتے ہیں اور اگر مسئلہ پیچیدہ ہے تو ہم مریضہ کو کسی اور ہسپتال لے جاتے ہیں۔ اس پر لودھی صاحب نے ہمیں دل دہلا دینے والی خبر سنائی۔ وہ کہنے لگے کہ آپ کی مریضہ کے بچے کا انتقال ہو گیا ہے لہٰذا ہم آپریشن کریں گے اور یہ کہتے ساتھ ہی انہوں نے اس جعلی لیڈی ڈاکٹر کو حکم دیا کہ ان کے مریض کا آپریشن کر دو۔ میں نے عرض کی کہ جناب آپ کون ہوتے ہیں یہ حکم صادر کرنے والے؟ اس فیصلہ کا اختیار صرف ڈاکٹر کو ہے۔ اتنے میں جعلی لیڈی ڈاکٹر صاحبہ بھی مسٹر لودھی کی حمایت میں تلملانے لگی۔ اس جگہ پر ہمارے ایک عزیز بھی عیادت کے لئے آئے ہوئے تھے انہوں نے اس جعلی لیڈی ڈاکٹر کو پہچان لیا اور کہا کہ آپ تو LHV ہیں میں آپ کو جانتا ہوں۔ اس پر محترمہ اور لودھی صاحب پہلے تو سیخ پا ہو گئے۔بعد میں انتہائی پراعتماد ہو کر معذرت کے انداز میں فرمانے لگے کہ جناب یہ LHVبہت ماہر ہے اور 15سال سے یہ ہسپتال چلا رہی ہیں۔ یہ سن کر راقم ہکا بکا رہ گیا کہ ایک مکمل ہسپتال صرف ایک LHV چلا رہی ہے جو کہ ہر قسم کا آپریشن بھی کر لیتی ہے نسخہ بھی تجویز کر لیتی ہے۔ راقم نے لودھی صاحب سے کہا کہ اس ساری صورت حال کے آپ ذمہ دار ہیں اور دوسری بات یہ کہ ہم نے اس LHVسے آپریشن نہیں کروانا آپ کسی مستند ڈاکٹر کو بلائیں۔ اس بات پر لودھی صاحب سے 15منٹ بحث ہوئی لیکن وہ کسی ڈاکٹر کو نہیں بلا سکے۔ آخرکار لودھی صاحب آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے اپنی دراز سے پستول نکال کر راقم پر تان دیااور فائر کرنے کی کوشش کی جسے وہاں پر موجود لوگوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا۔ اس کے بعد افضل لودھی نے راقم کو ایک زوردار دھکا دیا جس سے راقم کھڑکی کے ساتھ ٹکرایا اور کھڑکی کا شیشہ ٹوٹنے سے راقم کے دائیں ہاتھ پر شدید زخم آئے۔ہسپتال انتظامیہ نے ہمارے مریض کو بھی دھکے دے کر انتہائی نازک حالت میں ہسپتال سے باہر نکال دیا۔
اپنی غفلت سے بچے کی موت، غنڈہ گردی اور قاتلانہ حملہ کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے الٹا راقم کے ہی خلاف ہسپتال میں توڑ پھوڑ اور عورتوں پر تشدد کی شکایت تھانے میں درج کروائی ہے حالانکہ وہاں پر ایسا کوئی واقع نہیں ہوا اور پولیس موبائل ٹیم نے وقوعہ بھی دیکھا۔ حرام کی دولت کے نشے میں چور افضل خان لودھی نے ایک عدد جعلی سرٹیفکیٹ بنا کر راقم پر ایف آئی آر بھی درج کروا دی ۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو تھانے نے ڈاکٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ پولیس موقع دیکھ چکی تھی۔ وہاں پر ہماری طرف سے کوئی تشدد اور نقصان نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہم نے کسی پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ جبکہ راقم کو زخمی ہونے کی بناء پر میڈیکل سرٹیفکیٹ کے لئے تھانہ نے خود ڈاکٹ جاری کیا تھا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ مختلف ذرائع سے راقم کو دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا چیچہ وطنی کی انتظامیہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور سارا محکمہ صحت سو رہا ہے جو ایک لیڈی ہیلتھ ورکر انسانی جانوں کے ساتھ کھیل رہی ہے ؟ اگر پنجاب کی لیڈی ہیلتھ وزیٹرز اتنی ہی قابل ہیں تو ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کیا ضرورت ہی؟ اور اگر ہسپتال اسلحہ کے زور پر چل رہے ہیں تو پھر صرف طالبان کے خلاف ہی آپریشن کیوں؟ کیا ایسا مافیہ دہشت گردوں سے کم خطرناک ہے ؟ دہشت گرد تو جان لیتے ہیں لیکن یہ پرائیویٹ ہسپتال مافیہ جانیں بھی لے رہا ہے اور روزانہ لاکھوں روپے کما کر عزت کے ساتھ عیاشی بھی کر رہا ہے ۔ اس لئے راقم کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ساہیوال، بورڈ آف کمشنرز پنجاب ہیلٹھ کئیرکمیشن اور سیکریٹری ہیلتھ سے درخواست ہے کہ فی الفور نہ صرف بسمہ اللہ سرجیکل اینڈ میٹرنٹی ہوم بلکہ پورے پنجاب میں واقع اس طرح کے جعلی ہسپتالوں، کلینکس اور عطائی ڈاکٹروں کے خلاف ایک گرینڈ آپریشن کیا جائے اور عوام الناس کو ان بھیڑیوں سے بچایا جائے۔

شئیر کریں