مادری زبان میں تعلیم بچے کا بنیادی حق

ظہور دھریجہ
آئین پاکستان ملک میں بولی جانیوالی زبانوں کو ان کی بقاء اور ترقی کا حق دیتا ہے لیکن یہاں زبانوں کو ترقی کی بجائے ہمیشہ اس کا سر کچلا گیا اور ایک ایسی زبان جو ہندوستان کی ہندی زبان سے پیدا ہوئی اور پاکستان میں اس کا اپنا کوئی خطۂ زمین نہیں ہے ، کو جبری طور پر نافذ کرنے کے نتیجہ میں ملک دو لخت ہو چکا ہے۔ پھر مقامی زبانوں کو قتل کرنے کی روش جاری ہے۔ ہم اردو کے خلاف نہیں ، اسے اس کی آبادی کے مطابق ملنا چاہئے ، مگر پاکستانی زبانوں کا گلا گھونٹ کر کسی غیر زبان کو زندگی نہیں دی جانی چاہئے ۔ پاکستان کی اصل قومی زبانیں پاکستانی زبانیں ہیں ، پاکستان مختلف زبانیں بولنے والوں کا گلدستہ ہے ۔ مختلف تہذیبی عناصر کا وجود صدیوں سے ہے ۔ یہاں قوموں کے اپنے وطن اپنی زبانیں اور اپنی ثقافتیں ہیں ۔ انہی کی ترقی سے ہی پاکستان کی ترقی ہی ممکن ہے ۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ زبانوں قوموں اور ثقافتوں کی رنگا رنگی خالقِ کائنات کی بہترین تخلیق ہے۔ اگر کوئی سٹیٹ یا ادارہ غیر فطری طور پر اسے یک رنگی میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ حماقت خیز ہوگی اور کسی بھی لحاظ سے اس کی مثبت نتائج برآمد نہیں ہونگے۔ جس طرح ہر انسان شکل جیسی نہیں ہوتی ، جس طرح تمام پرندوں کی بولیاں ایک جیسی نہیں ہو سکتیں اسی طرح تمام انسانوں کی زبان بھی ایک نہیں ہو سکتی ۔
جیسا کہ میں نے کہا اردو سے نفرت نہیں لیکن اردو والے خود کہتے ہیں کہ اردو مختلف زبانوں کا ملغوبہ ہے ۔ یہ نیچرل نہیں بلکہ مصنوعی زبان ہے ۔ ستر سالوں میں حکومت نے ستر کھرب سے زائد اردو کی ترقی پر خرچ کر دیئے لیکن یہ زبان نہ تعلیمی زبان بن سکی ہے اور نہ دفتری ۔ اس زبان نے جتنا بھی نقصان دیا ہے وہ غریب کے بچوں کو دیا ہے کہ پاکستان میں مروجہ سسٹم کے تحت جتنے بھی ڈی سی او ، ڈی پی او ، کمشنر ، ہائیکورٹ و سپریم کورٹ کے ججز ، جنرل ، کرنل ، فارن سروسز اور دوسرے محکمہ جات میں جتنے بھی اعلیٰ افسر ہیں وہ انگلش میڈیم والے ہیں ۔ غریب کا بچہ سرکاری اردو میڈیم سکولوں میں پڑھتاہے اور اسے وہ ٹیچر پڑھاتے ہیں جنہوں نے انگلش کا منہ بھی نہیں دیکھا ، اس لئے میٹرک میں ایک سپلی ، دو سپلی ، تین سپلی ، آخر غریب کابچہ تھک ہار کر تعلیم ہی چھوڑ دیتا ہے۔
آج کراچی میں اردو بولنے والے افراد اور ایم کیو ایم کی اولادیں انگلش میڈیم پڑھتی ہیں ، ان کو پتہ ہے کہ اردو پڑھنے سے ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے تو پھر حکمران سرائیکی ، پنجابی ، بلوچی ، پشتو اور دوسری زبانیں بولنے والے غریبوں کی اولادوں کو ترقی کے حق سے کیوں محروم رکھنا چاہتے ہیں ۔ طبقاتی نظام اور طبقاتی تعلیم کا خاتمہ کرو، کچھ بے وقوف لوگ خدا کی بہترین تخلیق کا انکار کرتے ہوئے اپنے بچوں سے سرائیکی کی بجائے اردو بولتے ہیں اور بچوں کو ’’ ڈوڈر کاں ‘‘ بنا کر ان سے ان کا اعتماد چھیننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرتے ہیں اور وہی بچے آگے چل کر اپنے مصنوعی پن کی وجہ سے اپنے والدین کو بے عزت کررہے ہوتے ہیں ۔ ایسے بے وقوف لوگوں سے نفرت کی جانی چاہئے ۔مجھے تو ایسے دو نمبر لوگوں پر اتنا غصہ آتا ہے کہ میں ایسے لوگوں سے بات بھی نہ کروں ۔
جیسا کہ میں نے پہلا کہا اردو سے نفرت نہیں ہے مگر یہ زبان اپنے مصنوعی پن کی وجہ سے تنگئ داماں کا شکار ہے اور ویسے بھی یہ اپنی طبعی زندگی پوری کر چکی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان کی اصل زبانوں کو ترقی دی جائے اور جب تک یہ زبانیں ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتیں تو جس طرح امراء کے بچے انگریزی پڑھ رہے ہیں ، غریبوں کے بچوں کو بھی انگریزی پڑھنے دیا جائے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ تعلیم مکمل طور پر ریاست کی طرف سے ہونی چاہئے ، پرائیوٹ تعلیمی ادارے جو کہ تعلیم فروخت کر رہے ہیں اور وہ اس بزنس کو ہیروئن سے بھی زیادہ منافع بخش کاروبار سمجھتے ہیں ۔ان لوگوں کا مقصد تعلیم نہیں دولت ہے، انہی علم فروشوں نے تعلیم فروخت کر کے بڑی بڑی ایجوکیشنل سٹیٹس قائم کر لی ہیں کہ حوصلہ شکنی کی جائے ۔ یہ بھی دیکھئے کہ حکومت کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا کیا پڑھا رہے ہیں ۔
مدارس کو بھی سائنسی تعلیم میں تبدیل کرنا ضروری ہے اور کوئی بھی تعلیمی ادارہ بھیک یا غیر ملکی فنڈنگ کے سہارے نہیں چلنا چاہئے ۔ اگر ایسا ہوگا تو کسی بھی لحاظ سے قومی افق پر اس کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہونگے ۔ پاکستان میں آج جتنے بھی عذاب ہیں انہیں وجوہات کی بناء پر ہیں ، حکومت سمجھتی ہے کہ پرائیوٹ تعلیم ہو رہی ہے ، مدارس میں لوگ پڑھ رہے ہیں ، ہماری جان چھوٹی ہوئی ہے ۔ لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ حکمرانو ! تمہاری جان چھوٹی ہوئی ہے لیکن قوم کی جان جا رہی ہے اور وہ بری طرح مختلف عذابوں میں جکڑی جا چکی ہے ۔ تم بجٹ اس طرح کے بناتے ہو کہ معمولی رقم تعلیم اور صحت پر باقی تم سب کچھ اپنے اللوں تللوں پر خرچ کر دیتے ہو۔ آج سے تم تعلیمی بجٹ تین فیصد سے آٹھ فیصد کر دو ، نئے تعلیمی اداروں اور نئی یونیورسٹیوں کا جال بچھا دو ، پھر ہم دیکھیں گے کہ ہم سائنس ترقی اور دوسرے معاملات سے کس طرح یورپ سے پیچھے رہتے ہیں ۔ حکمرانو ماں بولیاں پڑھانے سے تم کو موت آتی ہے ، تم چینی پڑھا رہے ہو ، دولت کی چمک سے تمہاری آنکھیں کیوں چندھیا گئیں ، آنے والی نسلوں کے لئے کیوں عذاب پیدا کر رہے ہو۔
یونیسکو کی طرف سے منظور کئے گئے بین الاقوامی قانون کے مطابق بچوں کو ماں بولی میں تعلیم دینا ضروری ہے ۔ بچوں کو ان کی ماں بولی کے تعلیم کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ پوری دنیا کے ماہرین تعلیم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بچہ اپنی ماں بولی سے بڑھ کر کسی بھی دوسری زبان میں بہتر تعلیم حاصل نہیں کر سکتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر پرائمری سطح پر بچوں کو ان کی ماں بولی میں تعلیم دینے کا اہتمام کرے اور اس سلسلے میں مرکز اور صوبے قانون سازی کریں اور تعلیم کے میدان میں دوہرے معیار ختم کئے جائیں ۔ عجب بات ہے کہ سندھی بچوں کو تو ان کی ماں بولی میں تعلیم کاحق حاصل ہے باقی زبانیں بولنے والے محروم ہیں ۔ اس موقع پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سندھ میں سرائیکی بولنے والے کثیر تعداد میں رہتے ہیں ، ہمارے سندھی بھائیوں نے بھی سندھ میں بسنے والے سرائیکی بچوں کو ان کی ماں بولی کے حق سے محروم رکھا ہوا ہے ۔ صرف صوبہ خیبرپختونخواہ واحد صوبہ ہے جہاں اے این پی کے دور میں سرائیکی سمیت دوسری زبانوں کو بھی ماں بولیوں میں تعلیم کا حق حاصل ہوا۔ بلوچستان حکومت بھی اس سلسلے میں قانون بنا رہی ہے لیکن بلوچستان حکومت نے بھی سندھی ، فارسی اور ہزارہ سمیت دوسری زبانیں پڑھانے کا اعلان کیا ہے مگر وہاں کی اصل اور قدیم زبان سرائیکی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے حالانکہ بلوچستان کے بہت سے اضلاع اور وسیع خطے کی زبان بلوچوں کی آمد سے بھی پہلے سرائیکی چلی آ رہی ہے۔ عجب بات ہے کہ پنجابی اور اردو کا تعصب تو سرائیکی سے ہوتا آ رہا ہے مگر اب دوسری زبانیں بولنے والے بھی سرائیکی خطے کے غاصب پنجاب کے ہم نوا بن گئے ہیں ۔
سرائیکی کا جرم یہ ہے کہ یہ پاکستان کی سب سے قدیم زبان ہے جو ملک کے چاروں صوبوں میں موجود ہے ، سب کو خطرہ ہے کہ اگر سرائیکی کو بحیثیت قوم حق ملتا ہے یا ان کا صوبہ بنتا ہے تو پھر سب سرائیکی اپنی قومیت اور اپنی زبان پر سٹینڈ کریں گے اور مردم شماری کے ساتھ نادرا وغیرہ کے فارم میں خود کو سرائیکی لکھوائیں گے ، اس طرح ان کی مصنوعی لسانی برتری کم ہو گی ۔ اس لئے جس کا بھی بس چلتا ہے وہ سرائیکی کا سر کچلنے کی کوشش کر تا ہے لیکن کیا سرائیکی قوم نے ہمیشہ بے شناخت اور دوسروں کا دست نگر ، کمی یا محتاج بن کر رہنا ہے ؟ نہیں نہیں ایسا نہیں ،سرائیکی قوم ظلم کے خلاف بغاوت کرے گی اور جو اسے نہیں مانے گا ، پھر سرائیکی بھی اسے نہیں مانے گا ۔ جو سرائیکی کو گالی دے گا ، پھر اس کا جواب بھی سنے گا۔ زبان کا مسئلہ بہت حساس ہے ۔ سرائیکی قوم ہمیشہ تعصب کا شکار ہوئی ہے ، اس نے کسی سے آج تک تعصب نہ کیا بلکہ سرائیکی قوم اس لفظ سے بھی آشنا نہ تھی ۔ یہ سب کچھ ان لوگوں نے کیا جسے سرائیکی قوم نے پناہ دی اپنے گلے سے لگایا اور ان کے لئے صرف اپنے وسیب ہی نہیں اپنے دل کے دروازے بھی کھول دیئے لیکن سرائیکی قوم کو جو اس کا صلہ ملا تو اب اس کا دل زخموں سے چُور ہے ۔اب سرائیکی سب سے پہلے سرائیکی ہیں اور وہ اپنی زبان اور اپنی پہچان پر کسی بھی طرح کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔

شئیر کریں