نورا کشتی کا سیاسی دنگل

میری بات /روہیل اکبر
پاناما اور ڈان لیکس کے حوالہ سے مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے کا خواب دیکھنے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اورحالات بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں جے آئی ٹی کے حوالہ سے بھی انہیں سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ قوتیں جنکے اب پاکستان کے ساتھ مفادات وابستہ ہوچکے ہیں انکی خواہش بھی یہی ہے کہ آنے والے پانچ سال کے لیے بھی یہی سیٹ اپ چلتا رہے جبکہ عوام کی اکثریت بھی ایسے افراد کو منتخب کرنے میں ہر گز دیر نہیں لگاتی جن کے پاس ڈھیروں دولت ،لمبی لمبی گاڑیوں کا قافلہ اور لنگر پانی کا وافر اسٹاک موجود ہواور بلخصوص الیکشن کے دنوں میں مال پانی بھی خرچ کرنے والا فرد ہو تو ایسے افراد کو الیکشن میں کبھی بھی شکست نہیں ہوتی ایسے تجربہ کار ،ذہین اور نوٹ کمانے کے مختلف زرائع سے بھر پور واقفیت رکھنے والے سیاستدان الیکشن میں کامیابی کے بعد اگلے الیکشن کے لیے دولت ا کٹھی کرنا شروع کردیتے ہیں اسی لیے تو باپ کے بعد بیٹا ایم پی اے یا ایم این اے بن کر اپنے حلقہ کو علاقہ غیر اور علاقہ غیر کو اپنا حلقہ سمجھتا ہے جبکہ انکے ووٹر آج بھی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں ملک کے دوسرے صوبوں کی حالت زار کو تو چھوڑیں جہاں انسان کی زندگی کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے خادم اعلی کے صوبے پنجاب کے اکثر علاقے ایسے ہیں جہاں آج بھی کتا ، گدھا اور انسان ایک جگہ پر پانی پیتے ہیں نہ وہاں پر ہسپتال کی سہولت ہے اور نہ ہی حصول علم کے لیے تعلیمی درسگاہیں ہیں جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جارہے بلخصوص راجن پور ،ڈیرہ غازی خان ،مظفر گڑھ ،لیہ اوربہاولنگر کے لیڈر جو وہاں صرف الیکشن کے دونوں میں ہی نظر آتے ہیں جنکی کسی ترقیاتی کام میں دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں کوئی عمل دخل ہوتا ہے جبکہ عوام کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر منتخب ہونے والے یونین کونسل کے چیئرمین بھی کسی قسم کے اختیار کے بغیر اپنی جیبوں سے دفتروں اور ملازمین کی تنخواہیں اداکرکے اپنی عزت بچائے ہوئے ہیں بلدیاتی الیکشن میں کروڑوں روپے لگانے والے اس امید میں تھے کہ جو اختیارات کبھی مشرف دور میں ناظمین کو حاصل تھے اسی طرح یہ چیئرمین بھی خوب مزے اڑاتے مگر مسلم لیگ ن کی حکومت نے دوسرے اداروں کی طرح بلدیاتی نظام کو بھی لولا لنگڑا بنا دیا جبکہ اسمبلیوں میں بیٹھے عوام بے زار افراد بھی سوائے شور شرابہ ،لڑائی جھگڑا اور کاغذات پھاڑنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتے اگر کوئی شخص کام کرنے والا ہو ،محب وطن اور عوام کی خدمت کا جذبہ رکھنے والا ہو تو اسے ہماری عوام اور ہماری جماعتیں پسند نہیں کرتی کیونکہ ہر کام کے پیچھے کوئی نہ کوئی مالی فائدہ چھپا ہوتا ہے میں ایک ایسے شخص کو بھی جانتا ہوں جو تین بارلاہور سے اسمبلی کا رکن منتخب ہوا جسے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اپنا بھائی قرار دیتا تھاوہ میاں عبدالستار جب مسلم لیگ ق میں گیا تو چوہدریوں نے اس ہیرے جیسے شخص کی قدر نہ کی جسکی وجہ سے حالات کی سختیاں میاں عبدالستار پر حاوی ہونا شروع ہوگئی ایسا فرد جس نے کرپشن اور چور بازاری سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ان برائیوں کے خلاف بھی ڈٹے رہے جو جیت کے بعد اکثر عوامی نمائندوں میں سر چڑھ کر بولتی ہیں حیرت مجھے اس بات پر ہے کہ مسلم لیگ ق جس نے اپنے دور میں اتنے ترقیاتی کام کیے جو پاکستان کی تاریخ میں آج تک نہیں ہوئے ہسپتالوں کی ایمرجنسیوں کو وسیع کرکے ادویات مفت کردی ،غریب والدین کے بچوں کی تعلیم نہ صرف مفت کی بلکہ انہیں وظائف بھی دیے جانے لگے کسانوں کو بلکل ہی آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے گئے ،ریسکیو1122جیسا قابل فخر ادارہ بنایا گیا ان سب کارناموں کے پیچھے بھی بلاشبہ ڈاکٹر طاہر علی جاوید اور ان جیسے بہت سے درد دل رکھنے والے افراد کی کوششیں شامل تھی مگر ان سب کاموں کا کریڈٹ چوہدری پرویز الہی کونہ مل سکاجو خود بہت ملنسار اور خوش اخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان کے بھی ماہر ہیں مگر ان ہی کی چند پالیسیوں کی بدولت آج مسلم لیگ ق کا وجود بھی خطرے میں پڑا ہوا ہے آنے والے الیکشن میں ق لیگ کی سیٹیں مزید کم ہوسکتی ہیں کیونکہ ان کے پاس اس وقت کوئی ایسی ٹیم موجود نہیں جو اس جماعت کے لیڈروں کے ویژن کو لیکر آگے آگے بھاگ سکیں جبکہ رہی سہی کسر ق لیگ کی میڈیا ٹیم نے پوری کررکھی ہے ۔بات ہو رہی تھی سیاستدانوں کے اسکینڈلز کے حوالہ سے کہ موجودہ حکومت یونہی چلتی رہے گی جبکہ اگلا جمہوری سیٹ اپ بھی کچھ مختلف نظر نہیں آتاعوام یونہی لوڈ شیڈنگ ،بے روزگاری اور خودکشیوں سے نمبرد آزما رہے گی ملک سے لوٹی ہوئی دولت بھی باہر رہے گی اور اس لوٹ مار میں حصہ لینے والوں میں بھی مزید اضافہ ہوگا اور رہی بات غریب عوام کی حسب سابق انہیں ہر سیاست دان تسلی اور دلاسے دیتا رہے گا انہی کے کاندھے پر سوار ہوکر ہمارے حکمران آتے رہیں گے اور پھر انہی کے سر پر سوار ہوکر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے رہیں گے اب ایک بات تو طے ہے کہ ہماری سیاست میں مہذب اور ایماندار افراد کی کوئی جگہ نہیں جو مال کمانا ،کھلانا اور پھر بنانا جانتا ہے وہی ہمارا مستقبل کا لیڈر ہوگا اور تمام ادارے اسے کے طابع ہونگے رہی بات وزیراعظم میاں نواز شریف کے مستقبل کے حوالہ سے وہ اب کہیں جارہے ہیں اور نہ ہی وہ آنے والے دنوں میں کہیں جائیں گے تمام معاملات کو انہوں نے انتہائی احسن طریقے سے حل کرلیا ہے اب کسی قسم کے خطرے کی بات نہیں ہے اگر کسی کو خطرہ ہے تو وہ چوہدری برادران ،زرداری اینڈ کمپنی،عمران اور انکے ہمنواؤں کو ہوگا کیونکہ نورا کشتی کا سیاسی دنگل شروع ہوچکا ہے

شئیر کریں