یتیم بچے

شہزاد سلیم عباسی پاکستان آرفن کئیر فورم s

hahzadsaleemabbasi@gmail.com
یتیم ہونا کوئی کمزوری، عاریا محتاجی کی علامت نہیں ہے۔ یتیم بچہ معاشرے میں کسی بھی لحاظ سے کسی سائبا ں والے بچے سے کم نہیں ہوتا۔بچہ جو ابھی ماں کے بطن میں ہے یا بمشکل آنکھ کھولی ہے، والد کے سایہ شفقت سے محروم ہوگیاہے! اللہ رب العزت نے اسے خوبصورت سانچے میں ڈھال کربنایا ہے لیکن معاشرے نے اسے دھتکار کر بے رحم تھپیڑوں کے بیچ و بیچ لاکھڑا کیا ہے۔یتیم بچہ جو تربیت پانے، پڑھنے ، آگے بڑھنے اورخود کو آفاق کی بلندیوں تک لے جانے کی مکمل صلاحیتیں اورحق محفوظ رکھتا ہے اور اپنے احساسات وجذبات ، فکر و تخیل اور عزم و ہمت کا کوہ پیمان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے !! لیکن معاشرہ اس گوہر نایاب سے پرورش پانے کا حق چھین لیتا ہے۔اس کے سنہرے سپنوں کو کرچی کرچی کر دیتا ہے۔ اس کی خوابدیدہ صلاحیتیوں کو سرے سے ہی ختم کردیتا ہے جو کسی بحر کی موج کو اضطراب میں لا کر سپیوں کو ڈھونڈ نکالنے کی طاقت رکھتی ہیں کہ جس سے موتی، یاقوت و مرجان اورقیمتی نوادرات کا حصول ممکن ہو سکتا ہے ۔ میرے قلب و ذہن میں کبھی کبھی کچھ عجیب تخیلات منڈلاتے ہیں کہ کیا اس یتیم کا معاشرے میں جینے کا حق نہیں؟اسے امن و سکون اور خوشحالی کی زندگی جینے کا کوئی حق نہیں؟ یتیم بچے تعلیم و تربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی اور سماجی محرومیوں کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ کئی تو سیدھی راہ سے بھٹک جاتے ہیں، جہاں ان کی تعلیم و تربیت ایک سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ تصورباالیقین کیجیے کہ اس ماں پر کتنا گراں گزرتا ہوگا کہ جب یہ بچہ، یتیم کہلاتا ہوگا اور وہ معاشرہ جو اس بچے کی پیدائش کے انتظار میں ہوتا تھا یا اس کی خوبصورتی کے گن گاتا نہیں تھکتا تھا، آج وہ خود اس پر زمین تنگ کردیتا ہے۔بات یہاں ختم نہیں ہوتی ۔ پھراس معصوم یتیم بچے کی پرورش کے لیے وہ ماں جو پردہ داری اور عصمت کی ملکہ کہلاتی تھی ، وہ اب بچے کا پیٹ بھرنے کے لیے غیروں کے در پر صفائی کرتی ہے ، بدلے میں معاشرہ اسے طعن و تشنیع ، الزامات اور گھناؤنے ہتھکنڈوں سے نوازتا ہے ۔ٹوٹی اور دلبراداشتہ ماں اپنے یتیم لعل کے لیے دیکھے گئے حسین خوابوں کو چکنا چور ہوتے دیکھتے دیکھتے زندگی کی بازی ہار جاتی ہے۔ بقول شاعرؔ خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے۔ میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا۔
اسلام میں یتامیٰ کے حقوق کے حوالے سے قرآنی آیات اور احادیث نبویﷺ میں بڑی شدو مد کیساتھ ذکر آیا ہے۔ اسلامی معاشرہ بے سہارا اور کمزور طبقے کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے ’’اور (نیک لوگ )اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں ۔‘‘ ارشاد نبویؐ ہے ’’ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا شخص جنت میں اس طرح (قریب)ہوں گے۔‘‘( آپ ؐ نے اپنی شہادت کی انگلی اوربیچ والی انگلی کو ملا کر اشارہ کر کے فرمایا) ۔ پاکستان میں بیسیوں ملکی اور بین الاقوامی فلاحی ادارے یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں یتیم بچوں کی کفالت کرنے والے چند اداروں نے پاکستان میں یتیم بچوں کی آواز بننے کے لیے’’ پاکستان آرفن کئیر فور م POCF) تشکیل دیا جس میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان سرفہرست ہے۔POCF نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ’’ پاکستان آرفن کئیر فورم‘‘ہر سال 15 رمضان کو ’’یوم یتامیٰ‘‘ کے طور پر منائے گی۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی نے دسمبر2013ء میں پہلی بار ترکی کی معروف سماجی تنظیم آئی ایچ ایچ کی تجویز پر تمام اسلامی ملکوں میں 15 رمضان کویتیم بچوں کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا جسے دنیا بھر میں یتیم بچوں کی کفالت اور فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں نے عملاََسراہا ہے۔
گزشتہ سال پاکستان میں یتیم بچوں کی فلاح کے لئے کام کرنے والے رفاہی اداروں نے ’’پاکستان آرفن کیئر فورم‘‘ کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں یوم یتامیٰ منایا اور اسے مزید موثراور مفید بنانے کے لئے 15 رمضان کو سرکاری سطح پر منانے کی کوششوں کا آغاز کیا۔پاکستان آرفن کیئر فورم کی کاوشوں کے نتیجے میں سینٹ آف پاکستان(Senate of Pakistan) نے 20 مئی کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت ہر سال 15 رمضان المبارک کوپاکستان میں بھی لاوارث و یتیم بچوں کا دن منایا جائے گا۔پاکستان آرفن کئیر فورم میں الخدمت فاؤنڈیشن ، ہیلپنگ ہینڈ، مسلم ایڈ ، اسلامک ریلیف پاکستان،ہیومن اپیل، قطر چیرٹی ، ریڈ فاؤنڈیشن، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ، تعمیر ملت فاؤنڈیشن، ایدھی ہومز،انجمن فیض الاسلام،صراط الجنت ٹرسٹ، خبیب فاؤنڈیشن،سویٹ ہومز اور فاؤنڈیشن آف دی فیتھ فل شامل ہیں اور ہر وہ تنظیم اور ادارہ جو ملک میں یتیم بچوں کی کفا لت یا فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہا ہے ، وہ ’’پاکستان آرفن کئیر فورم‘‘ کا حصہ بن سکتا ہے۔ پاکستان آرفن کئیر فورم کے دروازے اُن کے لئے کھلے ہیں۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ا س وقت13کروڑ20 لاکھ بچے یتیم ہیں اور ہر 30 سیکنڈ میں 2 بچے یتیم ہوتے ہیں ۔جن میں سے 6 کروڑ یتیم بچے صرف ایشیا میں موجود ہیں اور ان بچوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر یہ یتیم بچے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائیں تو پوری دنیا کے گرد حصار بن سکتا ہے ۔ پاکستان میں42 لاکھ بچے یتیم ہیں اوران میں بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جنہیں تعلیم وتربیت ،صحت اور خورا ک کی مناسب سہولیا ت میسر نہیں۔ چندمسلم ممالک عراق ،افغانستان، فلسطین اورشام وغیرہ میں بھی گزشتہ چند سالوں سے جاری خانہ جنگی کے باعث یتیم بچوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔پاکستان میں بھی گزشتہ کچھ ادوار میں حالات کی ناسازگاری کے باعث یتیم بچو ں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔
یاد رکھیئے! آج کا یتیم کل کا جوان ہوگا اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن میں بچہ جن محرومیوں کا شکار ہوتا ہے ان کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ یتیم بچہ ،جو ملک و قوم کا وارث بننے جا رہا ہے، اسے زیادہ سے زیادہ شفقت و محبت سے نوازیں۔اگر بچپن میں یتیم کو آزاد چھوڑ دیا گیا اور اس نے غلط تربیت پائی تو یہ معاشرے کا مفید شہری ثابت ہونے کے بجائے خطرہ بن جائے گا۔15 رمضان اس عزم کے اظہار کا دن ہے کہ مسلم معاشرے کے لئے ہر یتیم بچہ رنگ، نسل اور مذہب کی تمیز کے بغیر اپنے ہی بچوں کی طرح عزیز ہے ۔ اس یقین کے ساتھ کہ ہمارے معاشرے میں کوئی بھی یتیم اوربے سہارا نہ رہے ، صحت مند معاشرے کی جانب پہلا قدم ہوگا ۔ معاشرے کے یتیم ہمارے بچے اور ہماری ذمہ داری ہیں۔ پاکستان آرفن کئیر فورم یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کا با شعور طبقہ یتیم بچوں کو درپیش مسائل کو سمجھے اور اس فورم کا دست بازو بنے۔

شئیر کریں