اولیاء کرام کا شہر..ملتان

ملتان ما بجنت اعلیٰ برابراست
آہستہ پابنہ کہ ملک سجدہ می کنند
ملتان کے بارے میں جس ہستی نے یہ لافانی شعر کہا، وہ ہستی خود کیا تھی؟ اس کا اپنا مقام اور مرتبہ کیا تھا؟ اور اس نے انسانیت کے لیے کیا کیا خدمات سرانجام دیں؟ اس بات کی تفصیل کے لیے ایک مضمون نہیں بلکہ کئی کتب کی ضرورت ہے، حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رض کی شخصیت اور خدمات بارے کچھ کتابیں مارکیٹ سے تو مل جاتی ہیں مگر ان میں مذکور مضامین کی حیثیت سطحی ہے، زکریا سئیں کو نئے سرے سے جاننے اور نئے سرے سے دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ غوث العالمین، شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی 27 رمضان 566ھ حضرت مولانا وجیہہ الدین محمد قریشی کے ہاں پیدا ہوئے، صغیر سنی میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا، یتیمی کی حالت میں تعلیم اور تربیت کے مراحل طئے ہوئے اور عین جوانی میں عازم سفر سلوک بنے، بغداد پہنچ کر حضرت شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ سے روحانی فیض حاصل کیا، سہروردی سئیں نے خرقہ خلافت عطا فرمایا اور آپ کو ملتان پہنچ کر دین کے لیے کام کرنے کی تلقین فرمائی، ملتان میں ان دنوں ہندوؤں کا غلبہ تھا اور پرہلاد جی خود تو موحد تھے اور خدا کا انکار کرنے والے اپنے بادشاہ باپ سے جنگ بھی کی مگر پر ہلاد جی کی وفات کے سینکڑوں سال بعد ان کے مندر پر بت پرست غالب آ گئے اور پرہلاد جی کا مندر ہندو مذہب کا مرکز بنا ہوا تھا، ملتان پہنچ کر آپ نے تبلیغ شروع کر دی، پرہلاد مندر کے متولیوں کے غیر انسانی رویوں سے نالاں لوگ جوق در جوق حضرت کی خدمت میں پہنچ کر حلقہ اسلام میں داخل ہونے لگے، آپ نے شروع میں مدرستہ الاسلام قائم کیا اور بعد میں اسے دنیا کی سب سے بڑی پہلی اقامتی یونیورسٹی کی حیثیت دیدی، آپ نے تعلیم کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا، جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج دین سکھانے کے لیے کسی نے بستر اور کسی نے کلاشنکوف اٹھا لی ہے، اس کے مقابلے میں حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (رح) نے کیا طریقہ کار اختیار کیا؟ یہ غور طلب ہے۔

غوث العالمین نے اپنی اقامتی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ مختلف عالمی زبانوں مثلاً سنسکرت،پنجابی، بنگالی، سندھی، فارسی، عربی، جادی، برمی، مرہٹی اور انڈونیشی وغیرہ کے شعبے قائم کیے، اور مذکورہ زبانوں کے طلبہ کو تعلیم سے آراستہ کر کے گروپ تشکیل دئیے اور ان گروپوں کو جماعتوں کی شکل میں کو تجارت اور تبلیغ کی غرض سے مختلف ممالک کے لیے روانہ کیا۔ تجارت کے لیے ہزاروں اشرفیوں کی صورت میں خود سرمایہ مہیا فرماتے اور ہدایت فرماتے رزق حلال کے حصول کے لیے تجارت کرنی ہے اور خدا کی خوشنودی کے لیے تبلیغ بھی، وفود کو روانگی سے پہلے پانچ باتوں کی نصیحت فرماتے۔
تجارت میں اسلام کے زریں اصولوں کو فراموش نہ کرنا۔
چیزوں کو کم قیمت منافع پر فروخت کرنا
خراب چیزیں ہرگز فروخت نہ کرنا بلکہ انہیں تلف کر دینا۔
خریدار سے انتہائی شرافت اور اخلاق سے پیش آنا۔
جب تک لوگ آپ کے قول و کردار کے گرویدہ نہ ہو جائیں ان پر اسلام پیش نہ کرنا۔
اسی زمانے دریائے راوی ملتان کے قدیم قلعے کے ساتھ بہتا تھا اور اسے بندرگاہ کی حیثیت حاصل تھی، کشتیوں کے ذریعے صرف سکھر بھکر ہی نہیں منصورہ، عراق، ایران، مصر کا بل دلی اور دکن تک کی تجارت ہوتی اس طرح ملتان کو دنیا بہت کے بڑے علمی تجارتی اور مذہبی مرکز کی حیثیت حاصل ہوئی اور صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں حضرت بہاو الدین زکریا ملتانی(رح) نام اور پیغام پہنچا، آپ کے پیغام سے لاکھوں انسان حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور آپ نے لوگوں کے دلوں میں اس طرح گھر بنا لیا کہ آٹھ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی لاکھوں انسان ننگے پاؤں اورسر کے بل چل کر آپ کے آستانے پر حاضری دیتے ہیں اور عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔

۔
ملتان شہر کو اسی خاصیت کی وجہ سے اولیاء کا شہر کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کافی تعداد میں اولیاء اور صوفیاء کے مزارات ہیں۔ مشہور مزارات میں

حضرت شاہ شمس تبریز(رح)،

حضرت بہاؤالحق (رح)،

بی بی نیک دامن (رح)،

حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی(رح)،

حضرت شاہ رکن عالم(رح)،

حضرت موسیٰ پاک شہید (رح)،

حضرت سید احمد سعید کاظمی(رح)،

حضرت حافظ محمد جمال (رح)،

حضرت بابا پیراں غائب(رح)

اور بہت سے اولیاء کرام کے مزارات یہاں پر ہیں۔ مضافات میں حضرت مخدوم رشید(رح) شاہ صاحب (وہاڑی روڈ)، حضرت پیر سید سخی سلطان علی اکبر (رح) کا مزار بھی موجود ہے جو سورج میانی روڈ پر واقع ہے۔

شئیر کریں