قدیم شہر ملتان کی تاریخ…

دنیاکی قدیم ترین تہذیبیں دریاوں کی وادیوں میں پیدا ہوئیں اور وہیں پروان چڑھیں۔ نیل،دجلہ،فرات اور دریائے سندھ کی تہذیبیں دریاوں کی ہی تہذیبیں تھیں۔ دریائے سندھ کی وسیع و عریض وادی کے علاقوں میں ملتان شہر اور اس کا نواحی علاقہ بھی شامل ہے۔ملتان جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا، پنجاب کا تیسرااور پاکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے ملتان قومی شاہراہ پر واقع ہے اور قدیم تاریخی شہروں میں سے ہے۔ ماضی بعید میں یہ کتنا قدیم و عظیم تھا اس کا اندازہ مندرجہ ذیل تاریخی شواہد سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔
ہبوط آدم:۔
اسلامی نقطہ نظرسے دنیا کا پہلا انسان حضرت آدم علیہ السلام کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کا ہبوط باتفاق مورخین جزیرہ سراندیپ یعنی’’’’سری لنکا’’’’پر ہوا۔ جس کی توثیق امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجھہ الکریم اور الامام محمد بن علی باقر، الامام جعفر الصادق کی روایات سے ہوتی ہے۔ جن کو ابن الفقیہ الہمدانی متوفی بعد 279ھ نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ
وفی الحدیث ان ادم اھبط بالھند علیٰ جبل سراندیپ و اھبطت حواء بجدۃ و ابلیس اللعین بمیسان والحیتہ باصفھان
ترجمعہ:۔ اور حدیث میں ہے کہ آدم ہند میں سراندیپ پہاڑ پر اتارے گئے اور حوا جدہ میں ابلیس لعین‘‘میسان’’میں اور سانپ اصفہان میں
یاد رہے کہ ملتان کا سب سے پہلا نام میسان ہی تھا۔تاج الدین کی کتاب تاریخ پنجاب میں جو 1868ء میں لکھی گئی یہ روایت درج ہے کہ نوح علیہ السلام کے طوفان کے وقت ملتان آباد تھا۔
نامور مورخ البرونی اپنی کتاب ’’مالہند’’کے صفحہ 155 پر لکھتا ہے کہ
’’گیارویں صدی عیسوی میں میرے قیام ملتان کے دوران ملتان کے باشندے اسے دو لاکھ سولہ ہزار چارسو تیس سال پرانا بتاتے ہیں۔ ’’
اس کی تائید ان آثار قدیمہ سے ہوتی ہے جو ملتان اور اس کے مضافات میں پائے گئے ان کی رو سے ماہرین آثار قدیمہ نے اس کی عمر دولاکھ سال قیاس کی ہے۔موجودہ تاریخیں اس کی قدامت اس حد تک تسلیم کرتی ہیں کہ دس ہذار سال قبل جب آرین وادی سندھ میں پہنچے توانہوں نے ملتان کو آباد کیا۔ہندووں کی متبرک کتاب رگ وید علم انسانی کی سب سے پرانی کتاب ہے جو ملتان کے علاقہ کے دریاوں کے کنارے بیٹھ کر کئی صدیوں میں لکھی گئی۔ رگ وید کے اشلوک کا زمانہ مورخین نے چھ ہزار سال سے آٹھ ہزار سال قبل از مسیح تحقیق کیا ہے۔سات دریاوں کی سرزمین نامی کتاب کے مصنف ابن حنیف ملتان کی قدامت پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ
‘‘اندرون فصیل ملتان کی گلیوں اور سڑکوں پر گزرتے وقت اکثر مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ ان گلیوں کے نیچے ان سڑکوں کے نیچے گہرائیوں میں ہزاروں برس پہلے کا وہ ملتان سویا ہوا ہے جو صدیوں تک باربار اجڑتا اور آباد ہوتا رہا۔ جواب سے ساڑھے چار ہزار قبل بھی پاکستان بھرکے چند اہم ترین شہروں میں سے تھا بعض ٹھوس وجوہات منطقی نتائج اور بیشتر معقول قیاسات کی بنا پر کم از کم مجھے تو پختہ یقین ہے کہ دریا کے کنارے ملتان کے مقام پر پہلی بستی ساڑھے پانچ ہزار سال قبل کے لگ بھگ اس وقت بسائی گئی اور اس وقت آباد تھی جب پاکستان کے مختلف علاقوں میں جلیل پور، لیہ وہنی وال، رحمان ڈھیری، ہٹھالہ، گوملا، کوٹڈیجی، ہڑپ، موہنجوڈارو، وحب سادات، کلی گل محمد امری اور ایسی ان گنت دوسری چھوٹی چھوٹی بستیاں پہلے پہل آباد ہوئی تھیں اور بعد میں بھی آباد تھیں۔ یہ سب آبادیاں زراعت کاروں کی تھیں۔ اندرون فصیل ملتان شہر کی صورت حال ذہن میں رکھیں تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آئے گی کہ سارا شہر کافی اونچائی پر واقع ہے گلیوں اور بازاروں میں چلیں بھریں #توبے شمار نشیب و فراز سامنے آتے ہیں جس اونچائی پر ملتان کی آبادی ہے وہ قدرتی ہرگز ہرگز نہیں ہے بلکہہزار ہا برس کے مسلسل تعمیری اور تخریبی عمل کے نتیجے میں صورت پذیر ہوئی ہے۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ گزشتہ پانچ ساڑھے پانچ برس کے دوران ملتان کتنی بار آباد ہوا اور برباد ہوا اور یہ تباہ کاریاں دریائی سیلابوں کی بھی لائی ہوئی ہوسکتی ہیں اور دیگر آفات سماوی کی نازل کردہ بھی۔ تباہی اور آبادی کے عمل مسلسل سے وہ بلندیاں وجود میں آئیں جن پر آج کا ملتان زندگی گزار رہا ہے۔ ملتان کی قدامت اور اہمیت کے سلسلے میں ایک بات زہن نشین رہنی چاہیئے اور وہ یہ کہ نہ صرف سکندر یونانی‘‘’’623 ق م‘‘’’بلکہ ہڑپائیدور 2500 ق م۔ 1500 ق م میں بھی ملتان میں قلعہ اور فصیل موجود تھی۔ ہڑپائی دور میں بالفرض نہ سہی تو کم از کم سکندر کے زمانے میں عظیم الشان اور مضبوط و مستحکم قلعہ بہرحال موجود تھا۔ چنانچہ سوادوہزار سال قبل ملتان میں قلعے کی موجودگی سے باآسانی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہاسے اتنا بڑا مرکزی اور اہم شہر بننے میں کتنا عرصہ صرف ہوا ہوگا کہ جہاں قلعہ بھی بن سکے ظاہر ہے یہ تدریجی ارتقاء چند برسوں میں تو ہونے سے رہا۔ ہزاروں سال لگے ہوں گے۔
ملتان کے قدیم نام:۔
میسان:
جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ملتان کا سب سے پہلا نام میسان تھا۔
کشپ پور:۔
ہندووں کی دیومالا کے مطابق اسے برہما کے لڑکے کشپ نے آباد کیا اور اس کا نام کشپ پور تجویز ہوا۔ کشپ ہندووں کے نزدیک دتیادی یا سورج دیوتاوں کا باپ تھا۔
پرہلاد پورہ:۔
کشپ کا سب سے چھوٹا لڑکا پرہلاد خدا کے وجود کا قائل تھا اور اس پاکیزہ عقیدہ کی وجہ سے اس کے عہد میں ملتان نے پرہلاد پورہ نام پایا۔
سنب پورہ:۔
پرہلاد کے پوتے بانا کے مخالف سنبہ نے اس کا نام سنب پورہ کردیا اور سورج کی پرستش کو دوبارہ رائج کرکے اسے بہت فروغ دیا۔ ایک خوبصورت بت سورج دیوتا کی یاد اور عبادت کیلئے بنایا جسے ادیتہ سنتھان نامی مندر میں رکھا۔
ہنس پور اور بھاگ پور:۔
یہ دو نام بھی سنسکرت کی پرانی کتابوں میں ملتان کیلئے ملتے ہیں۔
مول استھان:۔
آدیتہ دیوتا کے مندر کے اجراء کے بعد اس کا نام مول استھان پڑگیا۔ سنسکرت میں مولا کے معنی اصل کے ہیں اور استھان کے معنی جگہ کے ہیں۔ یعنی آدیتہ دیوتا کے مندر کی اصل جگہ۔
مالی استھان:۔
سکندراعظم کے حملہ کے وقت ملتان میں ہندووں کی ایک شاخ مالی آباد تھی اس نے اس کانام بدل کر مالی استھان رکھ دیاتھا۔
مولتان:۔
ایک روایت کے مطابق ادیتہ دیوتا کی نسبت سے مولتان نام پایا۔ یہ بت صدیوں تک قائم رہا اور ان طلائی تحائف کی وجہ سے جو اس بت پرچڑھائے جاتے تھے ملتان کو عرب سیاحوں نے بیت الزہب کانام دے رکھا تھا انگریزوں کے قبضے کے وقت بھی ملتان کان نام مولتان ہی تھا۔
ملتانِ:۔
مولتان کو مزید آسان اور کم وزن بنانے کیلئے کسی دانشور نے صرف واو نکال کر سیدھا ملتان بنادیا۔ یہ کب ہوا اس کی کوئی حتمی تاریخ نہیں معلوم ہوسکی۔ تاہم 1897 ء تک مولتان ہی استعمال ہوتا تھا۔

شئیر کریں