ملتان کے تاریخی دروازے ۔۔۔

احمد رضوان۔۔۔۔۔(بشکریہ ایکسپریس )
ملتان شہر کا قدیم قلعہ اور فصیل کے اندر آباد شہر اپنی جغرافیائی اور تاریخی اہمیت کے پیش نظر دنیا بھر میں انفرادیت کا حامل تھا، شروع میں یہ قلعہ دو دریائی جزیروں کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا اور اس معمر قلعہ کی سطح اردگرد کے علاقوں سے 150 فٹ بلند تھی، یہ بلندی اس کے شکوہ کو چار چاند لگاتی تھی۔ ملتان کا یہ ناقابل تسخیر قلعہ ڈیڑھ میل کے گھیرے میں ہشت پہلو بنا ہوا تھا، انتہائی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے اس قلعہ کو سکندر اعظم سے لے کر انگریز حملہ آوروں تک کوئی بھی پہلی کوشش میں تسخیر نہیں کر سکا۔
تاریخ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ملتان کا یہ قلعہ کب اور کس حکمران نے تعمیر کرایا، البتہ 1853ء میں سر الیگزنڈر کنگھم نے یہاں سے 800 قبل مسیح کے آثار دریافت کیے تھے ملتان کا یہ تاریخی قلعہ 1848ء میں ملتان پر برطانوی حملہ کے وقت شدید ترین بمباری اور بارود کا ذخیرہ پھٹنے سے منہدم ہوا، 1947ء تک بھی اس منہدم قلعہ کی فصیل کے آثار موجود تھے۔ یہ فصیل اتنی کشادہ تھی کہ اس پر چھ پہرے دار اپنے گھوڑوں پر بیک وقت دوڑ سکتے تھے۔ اس قلعہ کے 4 تاریخی دروازے بھی تھے گو آج قلعہ کے ساتھ ساتھ ان دروازوں کا وجود بھی ختم ہو چکا لیکن ان دروازوں کا تذکرہ آج بھی ملتان کی تاریخ میں زندہ ہے۔ آئیے ملتان شہر کے تاریخی دروازوں کے ذکر سے پہلے قلعہ کہنہ کے دروازوں سے گزرتے ہیں۔
قلعہ ملتان کے قدیم دروازوں میں ایک دروازہ ’’دیہہ‘‘ دروازہ کے نام سے معروف تھا جو قلعہ کے مغربی سمت کھلتا تھا، قیام پاکستان کے بعد دیہہ دروازہ کے مقام پر ایک نیا دروازہ بنایا گیا جسے ’’باب القاسم‘‘ کہا جاتا ہے بعض مورخین کے نزدیک دیہہ دروازہ کبھی آدتیا (سورج) دیوتا سے منسوب تھا، سرکنگھم جو 1853ء میں ملتان کے قدیم قلعہ پر تحقیقی کام کر رہے تھے نے بھی اس دروازہ کا نام ’’دیہہ دروازہ‘‘ ہی بتایا ہے۔ قلعہ کہنہ ملتان کا ایک دروازہ خضری دروازہ کے نام سے معروف تھا، اس دروازہ کی وجہ تسمیہ کے پیچھے دو آراء نظر آتی ہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دروازہ ملتان کے سابق گورنر اور دہلی میں شاہان سادات کے بانی حکمران سید خضر خان سے منسوب ہے۔
بعض لوگ اس دروازہ کا رخ دریائے راوی کی طرف ہونے کی وجہ سے بھی خضری کہتے ہیں کیونکہ حضرت خضر دریاؤں کے مرشد ہیں۔ قلعہ کے شمال مشرقی جانب کھلنے والے خضری دروازے کی طرف حضوری باغ سے بھی ایک راستہ آتا تھا۔ قلعہ کہنہ ملتان پر تیسرا دروازہ سسکی یا سکھی دروازہ کے نام سے معروف تھا قلعہ کی مشرقی جانب کھلنے والے اس دروازہ کے حوالے سے بھی دو آراء ملتی ہیں ایک خیال یہ ہے کہ اس دروازہ کا رخ چونکہ ملتان کے نواح میں واقع قلعہ سکہ کی طرف تھا اس لیے اس کا یہ نام رکھا گیا۔ دوسرا خیال یہ ہے کہ اس دروازہ سے باہر نکلتے ہی سامنے سکھوں کا ایک بہت بڑا گاؤں تھا اس لیے اس کا یہ نام رکھا گیا۔
قلعہ کہنہ ملتان پر چوتھا دروازہ ’’ریڑی دروازہ‘‘ کہلاتا تھا جو موجودہ حسین آگاہی کی طرف کھلتا تھا یہاں غالباً ڈھلان ہونے کی وجہ سے یہ ریڑی دروازہ کہلایا، منشی حکم چند نے اپنی کتاب ’’تواریخ ملتان‘‘ اس دروازہ کا نام ’’ہریڑی دروازہ‘‘ لکھا ہے۔ ریڑی دروازہ جہاں سے ایک راستہ بہاء الدین زکریاؒ کے مزار اور پرہلاد بھگت کے مندر کی طرف جاتا ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں 1848ء میں دو انگریز آفیسرز وانزایگنیو اور مسٹر ولیم اینڈرسن پر حملہ کیا گیا تھا‘ اصل میں یہی قلعہ کا صدر دروازہ بھی تھا۔
ملتان شہر اپنے ابتدائی زمانے میں نہ صرف دریائے راوی کے کنارے آباد تھا بلکہ راوی اور چناب کا سنگم بھی اس کے قریب ہی تھا‘ دریائے راوی ملتان کا قدرتی محافظ تھا جبکہ چناب کے راستے تجارت ہوا کرتی تھی۔ ملتان شہر کی فصیل 50 فٹ سے بلند تھی اور اس کے 8 سے بھی زائد دروازے تھے۔ منشی عبدالرحمن ’’تاریخ ملتان‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ایک دور تھا کہ شہر کی تمام آبادی فصیل کے اندر محصور تھی اور بیرون شہر صرف قبرستان اور ویرانے دکھائی دیتے تھے، پرانے زمانے کے تمام تجارتی مراکز بھی شہر کے اندر ہی تھے شہر کے قدیم دروازوں سے نکلنے والی ہر سڑک چوک بازار میں آکر مل جاتی ہے جو کہ مرکزی بازار ہے۔
اسی طرح اندرون شہر کی تمام سڑکیں اور گلیاں بھی آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان راستوں کی تعمیر میں کوئی جنگی و دفاعی حکمت عملی شامل تھی اگر کوئی اجنبی حملہ آور شہر میں داخل ہو جائے تو اسے دوبارہ باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل سکتا‘ صرف شہر کے راستوں سے آشنا لوگ ہی شہر میں آسانی سے آ جا سکتے ہیں‘‘۔
ملتان شہر کی قدامت اور اندرون شہر آبادی کے بارے میں مرزا ابن حنیف اپنی کتاب ’’سات دریاؤں کی سر زمین‘‘ میں لکھتے ہیں ’’اندرون فصیل ملتان کی گلیوں اور سڑکوں سے گزرتے ہوئے اکثر مجھے خیال آتا ہے کہ ان گلیوں کے نیچے گہرائیوں میں ہزاروں برس پہلے کا وہ ملتان سو رہا ہے جو صدیوں پہلے بار بار اجڑتا اور آباد ہوتا رہا، فصیل کے اندر ملتان شہر کی صورتحال ذہن میں رکھیں تو یہ حقیقت نکھر کر آئے گی کہ سارا شہر اونچائی پر واقع ہے، گلیوں اور بازاروں میں چلیں پھریں تو بے شمار نشیب و فراز سامنے آتے ہیں‘‘۔
ملتان شہر کے تاریخی دروازوں میں سے اس وقت صرف تین دروازے موجود ہیں باقی دروازوں کا وجود تو ختم ہو چکا ہے لیکن شہر کی زندگی میں آج بھی ان دروازوں کا نام زندہ ہے، اس وقت ملتان شہر میں حرم گیٹ، بوہڑ گیٹ اور دہلی گیٹ ہی اپنے تاریخی شکوہ کے ساتھ موجود ہیں جبکہ دولت گیٹ، لوہاری گیٹ اور پاک گیٹ کا وجود اس تاریخی شہر سے ختم ہو چکا ہے لیکن شہر کے لوگوں کی زندگی میں آج بھی یہ دروازے موجود ہیں جیسے پاک گیٹ کے مقام پر کوئی دروازہ نہیں لیکن شہری آج بھی اس جگہ کو پاک گیٹ ہی کہتے ہیں۔
شہر کی تہذیبی و ثقافتی زندگی میں بھی ان دروازوں کا بہت زیادہ کردار ہے، بڑے بڑے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے قدموں سے آشنا یہ دروازے صدیوں کی گزر گاہ پر آج بھی ایستادہ ہیں، ملتان شہر کی تاریخ میں اندرون شہر کے چھ دروازوں کے نام اور تاریخ تو ملتی ہے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ملتان شہر کے دروازے ان سے بھی زیادہ تھے۔ اس خیال کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ 1886ء میں شائع ہونے والے امپئریل گزٹیئر میں ملتان شہر کے اندر موجود دو اور دروازوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ امپریل گزٹیئر کے مطابق ’’شہر کے اندر ایک بڑا بازار ہے جو ایک چوتھائی میل تک پھیلا ہوا ہے اور حسین گیٹ سے ولی محمد گیٹ تک جاتا ہے یہاں سے تین گلیاں شہر کے مختلف دروازوں کی طرف جارہی ہیں۔
’’حسین گیٹ‘‘ اور ’’ولی محمد گیٹ‘‘ کا ذکر ملتان کی تاریخ پر لکھی جانے والی کسی کتاب میں موجود نہیں ہے، حسین گیٹ کا نام حضرت حسین آگاہیؒ سے منسوب معلوم ہوتا ہے جن کا مزار اندرون شہر واقع ہے جبکہ ولی محمد گیٹ کا نام ملتان کے سابق گورنر علی محمد خوگانی کے نام پر ہے۔ ملتان کے ان تاریخی دروازوں سے آج بھی لاکھوں شہری گزرتے ہیں،آئیے ملتان کے ان تاریخی دروازوں میں داخل ہوتے ہیں۔
بوہڑ دروازہ:قدیم حملہ آوروں کے راستہ سے ملتان شہر میں داخل ہوا جائے تو سب سے پہلے بوہڑ دروازہ ہی سامنے آتا ہے، اس دروازہ کی وجہ تسمیہ کے پیچھے یہاں بوہڑ (برگد) کے درختوں کی کثرت بتائی جاتی ہے، کسی زمانے میں چھتنار برگدوں کی ایک قطار بوہڑ گیٹ سے پل شوالہ کراس کرتے ہوئے حسن پروانہ قبرستان تک جاتی تھی۔ بوہڑ دروازہ سے ہی قدیم عہد میں ملتان آنے والے سیاح اور تاجر شہر میں داخل ہوا کرتے تھے، 1334ء میں ابن بطوطہ جب اوچ شریف سے ہوتا ہوا ملتان آیا تو اسی دروازہ سے شہر میں داخل ہوا تھا، موجودہ بوہڑ گیٹ انگریز عہد میں تعمیر کیا گیا تھا کیونکہ قدیم دروازہ انگریزوں کے ملتان پر حملہ کے وقت تباہ ہوگیا تھا‘ انگریز عملداری کے بعد یہ دروازہ دوبارہ بھی تعمیر کیا گیا جس میں چھوٹی اینٹ کے ساتھ بڑی اینٹ کا بھی استعمال کیا گیا۔
بوہڑ دروازہ کا بیرونی علاقہ جسے اب تک پرانے لوگ راوی کہتے ہیں یہاں آج بھی بن لوہاراں، بن موچیاں اور بن موہانیاں دریا کی یاد گار کے طور پر زندہ و آباد ہیں، بن سرائیکی میں کنارے کو کہتے ہیں۔ بوہڑ دروازہ کے بیرونی علاقہ سے کسی دور میں نالہ علی محمد بھی گزرتا تھا جس کے کنارے ملتان کا ایک تاریخی مندر، شو مندر بھی ہوا کرتا تھا۔ بوہڑ گیٹ کے اندر داخل ہوں تو دائیں طرف محلہ درکھاناں اور بائیں طرف محلہ شاہ گردیز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ملتان کے نامور صوفی حضرت یوسف شاہ گردیزؒ جب ملتان آئے تو انہوں نے بوہڑ گیٹ کے اندر ہی رہائش اختیار کی تھی، ان دنوں دریائے راوی ملتان شہر کے بالکل قریب تھا اور ہر سال شہر کی فصیل کو بہا لے جاتا تھا، یوں حضرت یوسف شاہ گردیزؒ کے مشوروں اور دعا سے فصیل دوبارہ تعمیر کی گئی۔ بوہڑ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی دائیں طرف النگ حرم گیٹ جبکہ بائیں طرف لوہاری گیٹ کی طرف جا رہی ہے۔
حرم گیٹ جانے والی النگ پر ہی کچھ دور آگے ایک برج ہے جس کا تعلق بوہڑ دروازہ سے ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے معروف ہندو ادیب فکر تونسوی بھی بوہڑ گیٹ کے قریب ہی رہا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی بائیو گرافی میں لکھا ہے کہ میں جب تونسہ سے ملتان آیا تو دن بھر دیواروں پر پینٹ کا کام اور شام کو بوہڑ دروازہ کے باہر سے ایک آنے کے ملتانی چنے لے کر کھانا کھاتا۔
حرم دروازہ:اس دروازہ کی وجہ تسمیہ سلسلہ قادریہ کے معروف بزرگ حضرت موسٰی پاک شہیدؒ کے حوالے سے ہے، 1010ھ میں آپؒ کی موضع منگے ہٹی کے مقام پر شہادت کے 15 سال بعد آپؒ کے جسد خاکی کو اچ شریف سے ملتان منتقل کیا گیا، یوں ایک قافلہ کی شکل میں گیلانی خاندان ملتان پہنچا، حرم دروازہ کے مقام پر گیلانی خاندان کا حرم یعنی خواتین ٹھہرائی گئیں تو اس دروازے کا نام حرم دروازہ پڑ گیا۔ حرم دروازے کے بالکل سامنے نشاط روڈ ہے جو ملتان کے قدیم بازار حسن کی طرف جاتا ہے۔ حرم دروازہ سے ایک راستہ سٹی ریلوے سٹیشن کی طرف بھی جاتا ہے۔
حرم دروازہ سے ایک سڑک پاک دروازہ اور خونی برج کی طرف جاتی ہے یہیں سے ایک راستہ کینٹ ریلوے سٹیشن اور چوک شہیداں کی طرف بھی جا رہا ہے۔ حرم دروازہ جو اب خستہ حالت میں موجود ہے‘ اس وقت شہر میں داخل ہونے کے لئے سب سے زیادہ یہی دروازہ استعمال ہوتا ہے۔ قیام پاکستان کے فوری بعد ملتان کی تمام تر تجارتی سرگرمیاں اسی دروازہ کے قریب ہی ہوا کرتی تھیں، اس دور میں تمام تر مالیاتی اور تجارتی ادارے بھی حرم گیٹ سے چوک شہیداں اور چوک شہیداں سے کینٹ ریلوے سٹیشن تک قائم تھے۔ ملتان کی تہذیبی و ثقافتی زندگی میں بھی اس دروازہ کا بڑا اہم کردار ہے۔ 10 محرم کے دن بھی ملتان شہر کے تمام اہم ترین تعزیے دن دو بجے تک چوک حرم گیٹ پر جمع ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد اپنے اپنے روٹ کی طرف چلے جاتے ہیں۔
پاک دروازہ:ملتان شہر کے پاک دروازہ کا وجود شہر کی تاریخ اور زندگی میں تو موجود ہے لیکن یہ دروازہ شہر میں اب کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ شہر کی تاریخ یہ بھی بتانے سے قاصر ہے کہ شہر کا یہ معروف ترین دروازہ کب منہدم ہوا اور کب اس کا ملبہ سمیٹا گیا۔ پاک دروازہ کی وجہ تسمیہ کے پیچھے بھی ملتان کی معروف روحانی شخصیت حضرت موسیٰ پاک گیلانیؒ کی ہی کہانی ہے۔ جب 1025ھ میں ان کا قافلہ ملتان پہنچا تو پاک دروازہ کے مقام پر ہی ان کا تابوت رکھا گیا تھا۔ پاک گیٹ میں داخل ہوتے ہی بائیں طرف حضرت موسیٰ پاک شہیدؒ کا مزار مرجع خلائق ہے، اس مزار کا طرز تعمیر بھی ملتان کے تاریخی شکوہ کی یادگار ہے۔ یہیں سے ملتان کا قدیم صرافہ بازار بھی شروع ہوتا ہے جو آگے جا کر چوک بازار سے مل جاتا ہے۔
پاک گیٹ کے سامنے ملتان کا قدیم محلہ بھیتی سرائے بھی ہے‘ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ملتان کی تہذیبی و ثقافتی زندگی میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے شاعر‘ موسیقار‘ تھیٹر اداکار‘ مرثیہ نویس اور ذاکرین اسی محلہ میں پیدا ہوئے۔ پاک گیٹ کے دائیں طرف ایک النگ دولت گیٹ جبکہ بائیں طرف النگ حرم گیٹ کو جا رہی ہے۔
دولت دروازہ:پاک دروازہ کی طرح ملتان شہر سے دولت دروازہ کا وجود بھی عنقا ہو چکا ہے۔ اب دولت دروازہ چوک پر کوئی دروازہ موجود نہیں لیکن شہر کے لوگ آج بھی اس جگہ کو دولت دروازہ ہی کہتے ہیں۔ بعض مورخین کی رائے میں ملتان کا قلعہ کسی دور میں دولت دروازہ تک آباد تھا۔ اس دروازہ کا نام دولت دروازہ ہونے کے پیچھے بھی دو وجوہات بتائی جاتی ہیں جن میں ایک حوالہ تو حضرت دولت شاہؒ کے مزار کا ہے جو چوک کے عین درمیان میں آج بھی موجود ہے، حضرت دولت شاہؒ حضرت بہاء الدین زکریاکے مرید اور خدمت گار تھے۔
دوسرا حوالہ یہ ہے کہ اس دروازہ کے اندر مغل بادشاہ اکبر کے دور میں سکے ڈھالنے کی ایک ٹکسال لگائی گئی تھی، اسی وجہ سے اس دروازہ کا نام دولت دروازہ پڑ گیا۔ دولت دروازہ کے ساتھ ہی واقع عام خاص باغ بھی ملتان کی سیاسی تاریخ کا اہم ترین گواہ ہے، ایک دور تھا کہ دیوان ساون مل گورنر ملتان کے محلات اور کچہری اسی باغ میں تھی۔ دولت دروازہ سے ایک سڑک ملتان کی معروف روحانی شخصیت حضرت شاہ شمسؒ کے مزار کی طرف جا رہی ہے جبکہ ایک سڑک دہلی گیٹ کی طرف جا رہی ہے۔
دہلی دروازہ:ملتان کے دہلی دروازہ کا نام اس لئے دہلی دروازہ پڑ گیا کہ یہاں سے سیدھی سڑک دہلی کی طرف جا رہی ہے۔ دہلی دروازہ کے اندر ملتان کے قدیم بازار میں جہاں مختلف دھاتوں سے متعلق کام ہوتے ہیں یہیں سے ایک نسبتاً تنگ گلی چوک بازار کی طرف جاتی ہے۔ دہلی دروازہ کے اندر ہی ملتان کا قدیم محلہ کاشی گراں اور محلہ سعید خان قریشی بھی ہے، شہزادہ مراد بخش جب ملتان کا گورنر بنا تو اس نے اپنے استاد نواب سعید خان قریشی جو فارسی کے نابغہ روزگار شاعر تھے کو دہلی دروازہ کے اندر بہت سی اراضی مرحمت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنا محل بنوایا، باغ لگوایا اور اپنا مقبرہ بھی بنوایا۔ قیام پاکستان سے پہلے دہلی دروازہ سے باہر نکلتے ہی سامنے سڑک پر ایک سنگ میل پر ’’دہلی 424 میل‘‘ لکھا ہوا نظر آتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے سیٹلائٹ کے ذریعے ملتان کے دہلی گیٹ اور دہلی کے ملتانی گیٹ کی تصویر لی گئی تو خلاء سے یہ دونوں دروازے ایکوریٹ ایک دوسرے کے سامنے دکھائی دیئے۔
لوہاری دروازہ:ملتان شہر کے ناموجود دروازوں میں سے ایک لوہاری دروازہ بھی ہے، اس دروازہ کے نام کے پیچھے بھی تاریخ دانوں کی مختلف آراء موجود ہیں، بعض لوگوں کے خیال میں اس دروازہ کا نام اس لئے لوہاری دروازہ پڑا کہ یہاں سے سیدھی سڑک لاہور کو جاتی ہے جبکہ دوسرا حوالہ یہ ہے کہ اس دروازے سے شہر میں داخل ہوتے ہی لوہے کا کام کرنے والوں کی دکانیں تھیں جو اب بھی قائم ہیں، اسی وجہ سے اس کا نام لوہاری دروازہ رکھا گیا۔
ملتان کے معروف صحافی، ادیب حنیف چودھری کی کتاب ’’افتادہ تحریریں‘‘ میں ’’تاریخ ملتان کے نئے اوراق‘‘ کے نام سے ایک مضمون شامل ہے جس میں اس دروازہ کی تاریخ سے متعلق بہت سی نئی باتیں سامنے آئی ہیں۔ حنیف چودھری لکھتے ہیں کہ دھنی رام پرتاب گڑھی نے اپنی کتاب ’’سورج کنڈ دی یاترا‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’قدیم زمانے میں اس دروازے کا نام لوہا دروازہ تھا اس بازار میں بدیشی ملکوں سے لوہے کا سامان لاکر فروخت کیا جاتا تھا‘‘۔ رام لال نابھوی نے اپنے مضمون ’’پرہلاد بھگت کا شہر‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’بھگت جی کے زمانے میں اس دروازے کا نام (لوراوتی / ایرواتی) تھا۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ رگ وید میں جن دریاؤں کا ذکر ہے ان میں لوراوتی / ایرواتی بھی ہے جسے آج کل راوی کہتے ہیں۔
شیخ اکرام الحق اپنی کتاب ’’ارض ملتان‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’شاہ جہاں کے عہد میں پہلے قلیبح خان بعد میں شہزادہ مراد بخش ملتان کے گورنر رہے، شہزادہ مراد بخش نے شہر کی فصیل ازسرنو بنوائی، قلعہ ملتان کی مرمت کرائی اور لوہاری دروازہ کے باہر گچکاری کا ایک پل بنوایا۔‘‘

شئیر کریں