آئیں ۔۔۔خوشیاں بانٹیں،،تحریر:مہر علی رضا

تقریباََتمام مذاہب میں ایک دو مذہبی تہوار ہوتے ہیں جن کو منانے کا مقصد تمام افراد کو یکساں مسرت و خوشی کا موقع فراہم کرناتاکہ سب مل کر خوشیاں منا سکیں ۔جس طرح سب مذاہب اپنے مذہبی تہوار بڑے جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی اپنے مذہبی تہوار بڑے جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں۔دوسرے ممالک میں دیکھا جاتا ہے کہ ان مذہبی تہواروں پر حکومت اپنے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مناسب اقدامات کرتی ہے تاکہ غریب و نادار افراد جن کے مالی حالات خوشیوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں وہ بھی خوشیاں منا سکیں ان تہواروں کو منانے کا مقصد تمام افراد غریب ہو یا امیر سب خوشیوں کا موقع فراہم کرنا ہے۔رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے بعددنیا بھر میں بسنے والے مسلمان بھی عید الفطر کا تہوارمناتے ہیں۔عید الفطرخوشیوں و مسرتوں کا تہوار ہے۔عید کے دن سبھی خوشیاں مناتے ہیں مگر ضرورت اس امر کی کہ عیدالفطر کی خوشیوں میں قریبی غریبوں ،ناداروں اور بیواؤں کا خاص خیال رکھا جائے ان لوگوں کا خیال رکھا جائے جو بے چارے مالی حالات و مہنگائی کی وجہ سے اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے نہیں خرید سکتے ان لوگوں کو خیال رکھا جائے جو اپنے بچوں کونئے جوتے خرید کر نہیں دے سکتے ۔مجھے اپنے مذہب اسلام پر بہت فخر ہوتا ہے اسلام کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیتا کسی کو تکلیف نہیں دیتا اسلام نے ہمیں وہ سبق سکھایا جو انسانیت کی بھلائی کے لیے ہو جس سے دوسرے لوگ بھی کماحقہ فائدہ اٹھا سکیں جس طرح اسلام نے عید الضحیٰ کے لیے قربانی کے گوشت میں سے ایک حصہ غریبوں اور یتیموں کے لیے مقرر کیا ہے اس طرح اسلام نے عید الفطر کے تہوار کے لیے فطرانے کا حکم دیا تاکہ غریب و نادار افراد بھی خوشی کے ساتھ عید گزار سکیں۔یہ ضروری نہیں ہے کہ جتنی رقم بنتی ہے صرف اتنی ہی دی جائے بلکہ جتنا زیادہ ہو سکتا ہے توفیق کے مطابق غریبوں کی مالی امداد کی جائے۔ میں نے دیکھا یہاں رواج پکڑتا جارہا ہے لوگ فطرانہ ادا تو کرتے ہیں مگر اپنی تشہیر کے لیے دکھاوے کے لیے لوگوں کے سامنے دکھا دکھا کر تصویریں بنوا تے ہیں۔اب اگر آپ نے مدد ہی کرنی ہے تو چھپ کر کریں تصویریں بنوا کر آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم جیسا سخی و رحم دل کوئی نہیں ہے یہ اور صرف رسمی اور دکھاوی امداد ہے جو میرے خیال میں بالکل درست نہیں ہے۔مالی امدار کریں مگر کسی کو پتا نہ چلے ۔اگر آپ اپنے اردگرد نظر دہراتے ہیں تو آپ کو کئی یتیم نظر آئے گے کئی مسکین نظر آئیں گے کئی بیوائیں نظر آئیں گی جو مالی حالات خراب ہونے کی وجہ سے تنگ زندگی بسر کررہے ہیں ان کی لازمی مدد کریں۔یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں ان کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔اسلام نے تو غریب کی مدد کے لیے فطرانے کا حکم دیا تاکہ وہ بھی عید کی خوشیاں منا سکیں لیکن یہاں دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کچھ لوگ دکھاوے کے لیے غریبوں کی مدد کرتے ہیں ذاتی تشہیر کی خاطر ایسی کی گئی مدد کسی کام کی نہیں ہے۔
ہمارے اردگر بسنے والے غریبوں کی طرف تھوڑی سی توجہ دی جائے تو وہ عید کی خوشیاں بہتر انداز میں منا سکتے ہیں۔جو لوگ بمشکل گھر کی روزی روٹی چلاتے ہیں وہ عید کی خوشیاں کیسے منائیں گے۔ہم تھوڑی سی بھی توجہ دیتے ہیں تو ان کے چہروں پر مسکراہٹ لا سکتے ہیں۔کسی غمگین و پریشان زدہ چہرے پر مسکراہٹ لانا بھی ایک بڑی نیکی ہے ۔آپ اردگرد اگر نظر دہراتے ہیں تو کئی آپ کو لوگ دکھائی دیں گے جو بچوں کو نئے کپڑوں یا جوتوں کا یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں ’’بیٹا اگلی عید پر ضرور لے کردیں گے۔‘‘ ان لوگوں کا خاص خیال رکھے ۔ان کے لیے یہی موقع ہوتا ہے کہ وہ مل کر خوشیاں منا سکیں۔ہماری تھوڑی سی توجہ ان کے لیے خوشی کا باعث بن سکتی ہے۔اکثر غریب میں نے دیکھے ہیں جو شرم کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے مگر کسی کی امداد کے منتظر ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کو خو د تلاش کر کے ان کی مدد کرنی چاہیے ۔ہمارے معاشرے میں ایک یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ جن کو فطرانہ دیا جاتا ہے ان کو اپنے کم تر سمجھا جاتا ہے اور باربار اس پر احسان جتلایا جاتا ہے کہ تم لوگ فطرانہ لینے والے کیا کر سکتے ہو۔جس سے غریب شرمندہ ہوتا ہے اور اس کاد ل دکھتا ہے۔ایسے احسان جتلانے سے بہتر ہے آپ مدد نہ کریں۔
حکومت کی بھی چاہیے کہ ان مذہبی تہواروں پر جتنا ہو سکے عوام کو ریلیف دینا چاہیے تاکہ غریب بھی خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔اس عید پر اگر آپ تین دن تک اشیاء مناسب ریٹ پر کردیں تو یقیناًایک غریب بھی عید کی خوشیاں منا سکتا ہے۔حکومت کو ان تہواروں پر خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عید کا مقصد پورا ہوجائے۔اسلام نے فطرانے کا نظام اس لیے مقرر کیا تاکہ سب ایک جیسی خوشیاں منا سکیں ہمیں اس نظام سے بڑھ کر غریب لوگوں کی امداد کرنی چاہیے۔اگر ہم ایسا ایک انسان کی خوشی کے لیے کرتے ہیں تو اس سے خدا بھی بہت راضی ہوگا۔آج ہمیں مدد کرنے وقت سب سے پہلے اپنے اردگر دیکھنا چاہیے کوئی غریب تو نہیں رہتا۔سب سے پہلے اپنے اردگرد کے لوگوں کو فطرانہ یا مدد کریں اور کوشش کریں کہ یہ عید کے ایک دو روز پہلے تک ہوجائے تاکہ عید تک غریب والدین بچوں کی فرمائش پوری کر سکیں۔یہ تہوار کوئی سارا سال نہیں آتے ۔سارا سال روزی روٹی کی فکر میں گزارنے والوں کے لیے یہی موقع ہوتا ہے کہ وہ خوشیاں منا سکیں۔آپ مالی امداد کے علاہ بھی غریب کے گلے مل کر اسے خوشی دے سکتے ہیں۔اوریہی پیغام ہر جگہ ہونا چاہیے ۔۔۔آئیں خوشیاں بانٹیں۔اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خوشیاں بانٹنے سے کم نہیں زیادہ ہوتی ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

شئیر کریں