6 ستمبر یوم فخر وتجدید عہد …..سہیل فراز

تحریر ۔ سہیل فراز ۔ چیئرمین قومی امن کمیٹی ملتان ریجن
ملت اسلامیہ کی تاریخ میں یوں تو بہت سے ایسے دن اور واقعات موجود ہیں جن کی وجہ سے ملت اسلامیہ کی تاریخ ایک نہایت درخشندہ و پائندہ تاریخ کی حیثیت رکھتی ہے اور بلاشک و شبہ و جہ فخر و مباہات ہے، اس لازوال تاریخ میں محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، خالد بن ولید، سلطان صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان اور حیدر علی اپنی اپنی جگہ ایک مستقل اور اہم ابواب کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن وہ جانباز سپاہی جنہوں نے 6 ستمبر 1965ئکو جب ہندوستان کی افواج نے پاکستان پر رات کے اندھیرے میں حملہ کر دیا تھا، اپنے سے کءئی گنا زیادہ فوج کے دانت کھٹے کر کے رکھ دیئے اور ان کی ناپاک امیدوں اور ارادوں پر پانی پھیر دیا۔ ایسے ہی جانباز مجاہدوں اور اسلام کے سپاہیوں نے ایک نئی اسلامی تاریخ رقم کی تھی۔ آج کے دن ہمارے جان فروشوں نے اپنا آج قوم کے کل پر قربان کرکے یہ ثابت کر دیا تھا کہ مسلمان کفار کے ساتھ میدان جنگ میں یا شہید ہوتا ہے یا غازی کہلاتا ہے۔پاکستان کے 68 سال کے سفر میں بے انتہا واقعات ایسے ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اور یہ واقعات پاکستان کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں ان واقعات میں چھ ستمبر 1965 کا دن بھی ہے جو وطن عزیز کے دفاع کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے اس دن ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان کی سرحوں پر نہایت بزدلانہ حملہ کیا تھا مگر ہماری بہادر فوج کے جوانوں نے بھاتی فوج کے دانت کھٹے کر دیے اور فوج کے ساتھ ساتھ ملی جزبے سے سرشار قوم نے اپنے پانچ گناہ بڑی طاقت کی وہ درگت بنائی کہ ساری دنیا حیران رہ گئی۔
ہماری فوج کے جانبازوں نے اپنے لہو سے ہماری تاریخ کے وہ روشن باب رقم کیے جن پر ہمیں فخر ہے۔ مسلمان مجاہد کی یک ہی آرزو ہوتیہے شہادت کی آرزو اور اللہ کی راہ میں جان دینے کی تمنا، ستمبر کی جنگ میں آنکھوں دیکھا جب پاک فوج کے شیر دل نوجوانوں نے اپنے جسموں پر بند باندھ کر ہونٹوں پر نعرہ تکبیر اور دلوں میں شہادت کا جزبہ لیے میدان جنگ میں بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنایا گیا اور ہماری بری،، فضائی اور بحری افواج دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔
یوم دفاعِ پاکستان ہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کے شہیدوں جری جوانوں نے اپنی سرحدوں کے بہادر اور غیّور پاسبانوں کی فہرست میں اپنا نام رقم کیا۔ ان کی شجاعت کے ناقابل یقین کارناموں کی کوئی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی۔ ان کی فرض شناسی اور حب الوطنی جدید جنگوں کی تاریخ میں درخشندہ مقام پر فائر کی جا سکتی ہے۔ان کا یہی جذبہ شجاعت تھا جس نے پاکستانی عوام کے ساتھ مل کر اپنے سے پانچ گنا بڑے اور جدید اسلحہ سے لیس دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ یہ ایک تاریخی معرکہ تھا جس میں ہمت اور حوصلوں کی بے مثال کہانیوں نے جنم لیا۔ پوری دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ پاکستان کے عوام اور افواج دشمن کے عزائم کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور اس کے منصوبے خاک میں ملا دیئے۔اس جنگ کا پس منظر یہ تھا کہ 1962ء میں بھارت نے چین کو دعوت مبارزت دی مگر منہ کی کھائی۔ چین از خود جنگ بند نہ کردیتا تو بھارت صدیوں تک ذلت کے داغ دھو نہ سکتا۔ 1965ء میں بھارت نے رن کچھ کے محاذ پر پاکستان سے پنجہ آزمائی کی مگر ذلت اٹھانا پڑی۔ جس پر بھارتی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اب ہم مرضی کا محاذ منتخب کر کے پاکستان کو مزا چکھائیں گے۔
ہندوستان نے پاکستان کو ترنوالہ تصور کرتے ہوئے 6 ستمبر کو پاکستان کو ختم کرنے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے حملہ کیا لیکن اس جنگ میں بھارت کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمیں یاد ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل کول کو بھارتی حکومت نے چھٹی دلا دی، اس پر الزام یہ تھا کہ وہ چینی سرحدی علاقوں سے متصل علاقے کا دفاع نہ کرسکا۔ نیز وہ علاقے چینیوں سے واگزار نہ کراسکا۔ جو پنڈت جواہر لال نہرو کی حکومت کے خیال میں بھارت کے علاقے تھے۔ چین نے جن پر قبضہ مخالفانہ کر رکھا تھا، جنرل کول نے اپنی کتاب ’’The Untold Story‘‘ میں بھارتی افواج کے کمانڈر اعلیٰ کے خوب لتے لئے اور جنگ ستمبر 1965ئمیں بھارتی افواج کی کارکردگی پر جنرل چودھری کو مطعون کیا۔ جنرل کول نے صاف لکھا کہ ہم بھارتی لوگ پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھے، اسی طرح فوجی امور میں بھی پھر ہمیں کیا ہوگیا، ہمیں ان جملہ وسائل کے ہوتے ہوئے اور برتر ہونے کے باعث پاکستان کو شکست دینا چاہئے تھی لیکن صاف اور سیدھی بات ہے کہ ہم پاکستان کو شکست نہیں دے سکے۔
لاہور پر بھارتی فوج کے حملے کے بعد چھ سیبر طیارے فضا میں یکدم نمودار ہوئے اور پورے بیس منٹ تک دشمن پر بموں’ راکٹوں اور گولیوں کی بارش کرتے رہے۔ پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے کی تباہی نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اس کارنامے کے بھی سرخیل سجاد حیدر ہی تھے۔ انہوں نے نہایت نیچی پرواز کر کے دشمن کے بارہ جنگی اور دو ٹرانسپورٹ طیارے اڈے پر کھڑے کھڑے ہی تباہ کر دئیے’ اس کے علاوہ اڈے کو مزید کام دینے کے لئے ناکارہ بھی کر دیا۔فضائی معرکے کا ایک قابل تحسین معرکہ ایم ایم عالم کا ہے۔ انہوں نے سرگودھا کے قریب ایک ہی جھڑپ میں دشمن کے پانچ طیارے گرا کر ریکارڈ قائم کر دیا۔ اس کے بعد بھارتی فضائیہ کو سرگودھا کی جانب جانے کی جرات نہیں ہوئی۔ انبالہ کے دفاعی انتظامات کی بڑی کہانیاں مشہور تھیں۔ یہی خطرات پاکستانی ہوابازوں کے لئے چیلنج بنے ہوئے تھے۔ 21ستمبر کو سحر سے ذراپہلے ونگ کمانڈر نذیر لطیف اور اسکواڈرن لیڈر نجیب احمد خان دو بی 57 بمبار طیارے لے کر آسمان کی وسعتوں میں نمودار ہوئے۔ انہوں نے دشمن کے ہوائی اڈے کو بموں کا نشانہ بنایا۔ دشمن نے بے پناہ گولہ باری کی مگر دونوں جوانوں نے کمال حوصلے اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا مشن پورا کر دیا۔انبالہ کے دفاعی انتظامات کا غرور آن واحد میں خاک میں مل گیا۔ سترہ روز جنگ کے دوران پاکستان کے جرات مند ہوابازوں نے35طیاروں کو دو بدو مقابلے میں اور 43 کو زمین پر ہی تباہ کر دیا تھا۔ 32 طیاروں کو طیارہ شکن توپوں نے مار گرایا۔ بھارت کے مجموعی طور پر 110 طیارے تباہ کر دیئے گئے۔ اس کے علاوہ ہماری فضائیہ نے دشمن کے 149ٹینک’ 200 بڑی گاڑیاں اور20 بڑی توپیں تباہ کر دیں۔ س کے مقابلے میں پاکستان کے صرف 19 طیارے تباہ ہوئے۔ پاک فضائیہ کے ان عظیم کارناموں پر عالمی حلقوں کی طرف سے حیرت و استعجاب کا اظہار کیا گیا۔ جنگ ستمبر میں پاک بحریہ کو سمندری جنگ کے معرکوں میں جو برتری حاصل رہی ان میں معرکہ دوارکا قابل ذکر ہے۔ یہ معرکہ پاک بحریہ کی تاریخ میں یادگار حصہ بن چکا ہے۔ دوارکا کی تباہی کا بیرونی اخبارات میں بڑا چرچا ہوا۔ برطانوی اخبارات نے تو خاص طور پر کہا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد بھارت کی سرزمین پر سمندر کی جانب سے پہلی گولہ باری ہوئی ہے۔ انہوں پاک بحریہ کی جرات اور مستعدی کی تعریف کی۔ خاص طور سے اس لیے کہ مخالف طاقت اس سے کہیں زیادہ بڑی تھی۔1965ء میں صرف اس کارروائی نے دشمن پر یہ ظاہر کر دیا کہ سمندروں میں اس کو من مانی نہیں کرنے دی جائے گی۔یہ کارنامہ دراصل ان لوگوں کے لیے بھی قابل فخر ہے جو پاکستان نیوی کے جہازوں کو سنبھالے ہوئے تھے اور ان میں ان لوگوں کا بھی حصہ تھا جو ساحل پر بیٹھے ان جہازوں کو سمندروں میں خدمات بجا رکھنے کے قابل رکھنے کے کاموں میں مصروف تھے۔ پاکستان کی تینوں مسلح افواج ہر محاذ پر برسرپیکار تھیں۔ ان افواج کو حوصلہ اور تقویت عطا کرنے میں پاکستان کی غیور عوام کا بھی نہایت اہم کردار تھا۔ وہ اپنی مسلح افواج پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لئے تیار لاہور کے عوام کو جب جنگ کی اطلاع ملی تو وہ تانگوں پر کھانا’ اچار’ کپڑے’ سگریٹ غرض ہر وہ چیز جو ان کی دسترس میں تھی’ لے کر اپنے جوانوں کو دینے کے لئے سرحدوں کی جانب دوڑے۔ جب فوجیں سرحد کی طرف جاتیں تو بوڑھے مرد اور عورتیں سڑک کے کنارے ان کی سلامتی کے لئے دعائیں مانگتے’ ان کی مدد کے طریقے پوچھتے اوربچے جذبہ عقیدت سے سلوٹ کرتے۔بہنیں اللہ سے ان کی حفاظت کے لئے دعائیں مانگتیں۔ شاعر ملی ترانے لکھ کر اپنے جذبوں کا اظہار کررہے تھے تو گلوکاروں کی صدا دعا بن کر فضا میں شامل ہورہی تھی۔ غرضیکہ پورا ملک جنگ میں شامل تھا مگر کسی قسم کا خوف نہ تھا۔پاکستانی عوام فضا میں پاک فضائیہ کے شاہینوں کی کاروائیوں کو ایسے دیکھتے تھے جیسے پتنگ بازی کا مقابلہ ہو اور دشمن کے طیاروں کے گرتے ہی بوکاٹا کا شور مچتا۔ الغرض اس جنگ میں ہماری قوم نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ آزمائش کی ہر گھڑی میں پاک فوج کے شانہ بشانہ ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔
پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن کر ابھرا ہے، اسلام کا قلعہ ہے، تمام عالم اسلام کے لئے تحفظ اور استحکام کا ذریعہ ہے اور انشائاللہ پاکستان اسلام کے ضمن میں اپنے فرائض بطریق احسن انجام دے گا۔ 6 ستمبر کا دن ہمارے لئے یوم تجدید عہد غیرت و حمیت کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ یوم تجدید عہد ہے آیئے عہد کریں کہ دشمنوں کو دہشت گردوں کو اپنے پیارے وطن سے نکال کر دم لیں گے اور نیست و نابود کر دیں گے۔ آئیے اپنے فوجیں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور ایک قدم ہو کر عہد کریں ہم دشن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں اور وطن کی طرف بڑھتے ہوئے ہر قدم اور ہر بری نظر رکھنے والے کی آنکھ کو پھوڑ دیں گے،اور پاکستان افواج کے ساتھ ملکر وطن عزیز کو ایک خوشخال ملک بنائیں گے، پاکستان زندہ باد۔پاک فوج پائندہ آباد ۔
خدا کرے کہ میری ارض پاک پہ اترے وہ فصل گل
جسے کبھی اندیشہ زوال نہ ہو

شئیر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں