شاہ زیب کے بعد اگلی باری آپ کے بچے کی ہو سکتی ہے ‎

تحریر : عماد ظفر
بالآخر جتوئ اور تالپور گھرانوں کے چشم و چراغ باعزت طور پر بری ہوئے ۔ انتہائ اطینان سے انصاف کا خون کیا اور ریاست کے قانونی و سماجی ڈھانچے کو قدموں تکے روندتے ہوئے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے۔مقتول شاہ زیب خان کے والد نے معافی نامے پر کس دباو کے تحت دستخط کئیے اس کا اندازہ لگانا ہر چند بھی مشکل نہیں ہے۔ البتہ قابل غور بات یہ ہے کہ مقتول شاہ زیب کے والد خود پولیس کے اعلی افسر ہیں اور اگر ّ وہ اعلی پولیس افسر ہوتے ہوئے بھی اس دباو کو برداشت نہیں کر پائے تو سوچئیے ایک عام آدمی کس حد تک اپنے اوپر اپنے سے طاقتور اور بااثر افراد کا دباو برداشت کر سکتا ہے۔ شاہ رخ جتوئ کے فتح کے نشان کے ہیچھے چھپی کہانی کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ 24 دسمبر 2012 کی رات شاہ زیب اپنی فیملی کے ساتھ بہن کا ولیمہ اٹینڈ کرکے گھر آرہا تھا کہ سراج تالپور نامی ایک نشے میں دھت نوجوان نے اس کی فیملی کی ایک لڑکی کو چھیڑنا شروع کیا۔ لڑکی کے بھائی، شاہزیب خان نے اسے منع کیا، جھگڑا ہوا اور تالپور کو مجبورا وہاں سے جانا پڑا۔

تالپور اپنے دوست، شاہ رخ جتوئی اور دو مزید دوستوں کے لے کر ان کے گھر آیا، اور پھر سب کی آنکھوں کے سامنے شاہزیب خان کو شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں نے سیدھے فائر کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہوگئے۔ شاہزیب کا والد ڈی ایس پی تھا، مقدمہ چلا، ملزمان کو گرفتار کیا گیا، گواہ وغیرہ سب موقع پر موجود تھے، سیشن کورٹ کے جج نے شاہ رخ اور سراج کو پھانسی جبکہ دوسرے دو ساتھیوں کو معاونت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی۔ لیکن پھر مقتول کی فیملی پر دباؤ ڈلنا شروع ہوا۔ انہیں دھمکیاں ملیں کہ اگر ہمارے بیٹے نہ رہے تو تمہاری بیٹیوں کو ایک ایک کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔

آہستہ آہستہ گواہ بھی غائب ہوگئے اور ثبوت بھی۔بالآخر بیٹیوں کی زندگی بچانے کی خاطر شاہزیب خان کے والدین نے ایک معافی نامہ سائن کرکے عدالت میں جمع کروایا اور سزائے موت آخر کار معطل کر کے عدالت نے از سر نو مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔تالپور اور جتوئی گھرانوں نے اپنے سیاسی اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے سندھ حکومت کے زریعے استغاثہ کو کمزورکیا۔ دوسری طرف عدالت میں دہشتگردی کی دفعہ قائم کرنے کے خلاف رٹ دائر کروائ گئ۔ نتیجتا سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان پر دہشتگردی کی دفع ختم کردی۔ نئے سرے سے معافی نامہ جمع ہوا اور بالآخر چاروں ملزمان کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔شنید ہے کہ مقتول شاہزیب کے والد نے 27 کڑوڑ روپے دیت کی مد میں تالپور اور جتوئ خاندانوں سے بھی وصول کئیے۔ غالبا مقتول کے والد ایک پریکٹیکیل اور حقیقت پسند آدمی ہیں اسی لئیے انہوں نے بیٹیوں کی زندگی بچانے اور ان کے مستقبل کیلئے بااثر قاتلوں سے معافی نامہ کے دستخط کیلئے 27 کڑوڑ روپے وصول کئیے۔ صلح تو بہرحال ہونی ہی تھی کہ ہمارا پولیو زدہ نظام عدل اور ہماری مفلوج ریاستی رٹ اس قدر مضبوط نہہں ہے جو تالپور یا جتوئ جیسے بااثر خاندانوں کو سزا دینے کی ہمت کر سکیں۔ تو پھر مقتول کے خاندان نے ان حالات میں اگر پیسے لے بھی لئیے تو اسے ان کی عقلمندی کہا جانا چائیے۔ بہت سے صحافی بھائیوں اور دانشور ساتھیوں کو اس بات پر مڑوڑ بھی اٹھے کہ ریمنڈ ڈیوڈ کیس کی مانند اس کیس میں بھی پیسہ لیکر قاتلوں کو کیوں معاف کیا گیا ؟

یہ نکتہ ان افراد کی جانب سے اٹھایا اور اجاگر کیا جا رہا ہے جنہیں حقیقت میں وطن عزیز کی زمینی صورتحال کا ادراک ہی نہیں۔ جنہیں شاید معلوم ہی نہیں کہ پیسے اور تعلقات کے دم پر جب مقتولین کے ورثا کو ہر جانب سے دھمکیاں آتی ہوں ان کی بیٹیوں اور بچوں کے سکول کالج یونیورسٹی آنے کے اوقات کار معلوم ہونے سے لیکر ان کی تمام سرگرمیوں میں تعاقب کیا جاتا ہو تو والدین پر کیا بیتتی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئ ایسا بیوقوف والد یا والدہ ہوں گے جو اداروں اور ریاست کو طاقتوروں کے گھر کی لونڈی بنے ہوئے دیکھنے کے بعد اپنے مقتول لخت جگر کے لئیے انصاف کے حصول کی خاطر اپنے زندہ بچوں یا بچیوں کی زندگیوں کو داو پر لگانے کی غلطی کریں۔وہ بھی ایک ایسے معاشرے میں جہاں مجموعی اکثریت کا مشغلہ تماش بینی کرتے ہوئے ہر قتل یا دہشت گردی کے واقعات کے بعد چائے اور کافی کی چسکیوں کے بعد ان واقعات کو زیر بحث لا کر وقت گزاری کرنا ہو۔ بھلا آپ کے یا میرے ایک کالم لکھنے سے یا پھر نجی محفلوں میں اسے ڈسکس کرنے یا سوشل میڈیا پر خالی خولی ٹسوے بہانے سے کیا بدمعاشوں اور قاتلوں سے کسی بھی شخص کو تحفظ حاصل ہو سکتا ہے؟ کیا محض لکھنے اور دعوے کرنے سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ لاہور میں مصطفی کانجو کے ہاتھوں مارے جانے والے مقتول زین کی ماں نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کے آگے اپنی بیٹیوں سمیت کھڑی ہو جائے۔

کیا سوشل میڈیا پر ہماری نوحہ گری کے بعد مقتول شاہزیب کا باپ اپنی زندہ بچنے والی بچیوں کی زندگی بھی داو پر لگا دیتا؟ شاید پیسوں کے عوض جان بخشی کرنے کے طعنے دینے کے بجائے ہم سب کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں تو وقت گزاری کیلئیے اور سوشل میڈیا پر جذباتی سٹیٹس اپ لوڈ کرنے کیلئیے اور اوراق سیاہ کرنے کیلئیے مزید لاشیں مل جائیں گی، ان گنت مزید واقعات مل جائیں گے لیکن شاہ زیب کے والد کو نہ تو اس کا کھویا ہوا بچہ واپس مل پائے گا اور نہ ہی ہم میں سے کوئ اس کی زندہ بچ جانے والی بچیوں کے حصے کی گولی کھانے کیلئیے اس کا ساتھ دینے جائے گا۔اس لئیے ازراہ کرم یہ رقم لینے کے طعنے مارنا بند کیجئیے۔ اگر طعنے مارنے ہیں تو دیت کے اس قانون کو ماریے جو دولت مند کو قانون کی گرفت سے باآسانی فرار ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔چونکہ یہ دیت اور قصاص کا قانون عقیدے سے جڑا ہوا ہے اس لئیے اس پر نہ تو کوئ خاص تنقید سنائ دے گی اور نہ ہی اس قانون کے سقم کی جانب کوئ توجہ دلائے گا۔ یہ قانون جس طریقے سے بااثر افراد کوقتل کرنے کے سہولت مہیا کرنے کے بعد باآسانی مقتول کے ورثا کو للچا کر یا ڈرا دھمکا کر معافی نامے اور صلح کیلئیے مجبور کرتا ہے اس کی مثال ریمنڈ ڈیوس کیس میں بھی سامنے آئ اور شاہ زیب قتل کیس میں بھی۔ یعنی اگر قتل کرنے والا مالدار اور بااثر ہے تو وہ باآسانی دیت کی رقم دیکر جتنے مرضی قتل کرتا پھرے اس کو سو خون معاف اور دوسری جانب ہزارہا لوگ جیلوں میں ساری زندگی اس لئیے سڑیں کہ ان کے پاس پیسہ نہیں جس کے دم پر وہ مخالفین کو دبا سکیں یا للچا سکیں۔

شاہ زیب کے قاتلوں کا یوں چھوٹ جانا ہمارے اس معاہدے پر بھی بنیادی سوالات کھڑے کرتا ہے جس کے تحت ریاست اور عام شہری ایک دوسرے کے ساتھ ایک حلف یا عہد نامے سے جڑے ہوتے ہیں۔ بطور شہری اگر ریاست میرے جان و مال کاتحفظ کرنے سے انکاری ہے یا ناکام ہے تو پھر ایسی ریاست میں میرا کیا عمل دخل اور کیونکر مجھے اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔ ریاست اگر عدل کا نظام ہی وضع نہ کرنے پائے اور عام شہریوں کو بااثر افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو پھر ریاست کے پاس کیا جواز بچتا ہے کہ وہ معاشرے میں عدل اور مساوات کی باتیں کرے۔ٹالسٹائ نے کہا تھا کہ ‏‏مملکت سرمایہ داروں کی جماعت کا نام ہے جو محتاجوں اور ضرورت مندوں سے اپنی املاک محفوظ رکھنے کے لیئے اتحاد کرلیتی ہے. ٹالسٹائ کا یہ قول کم سے کم ہماری ریاست پر باالکل ٹھیک اترتا ہے۔ زرداری ،عمران خان، نواز شریف ،یا ان جیسے دیگر تمام افراد دراصل ایک ہی سکے کے مختلف رخ ہیں جو دراصل انہی قاتلوں اور بدمعاشوں کے فرنٹ مین کے طور شرافت اور اصولوں کا جھوٹا لبادہ اوڑھے اس سماج کو گھن کی طرح کھاتے ہی چلے جا رہے ہیں۔

خیبر پختونخواہ میں ڈیرہ اسماعیل خان میں بچی کو برہنہ کرنے کا واقع ہو یا اسلام آباد میں سر عام ایک بیرسٹر کی تاجی کھوکھر کے غنڈوں کے ہاتھوں موت، لاہور میں مصطفی کانجو کے ہاتھوں ہلاک ہونے والا زین یا کراچی میں قتل ہونے والا شاہ زیب ان سب کے قاتلوں کے تعلقات اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے سیاسی افراد کے ساتھ نکلتے ہیں۔ ملک ریاض ہو یا علیم خان ایسے قبضہ مافیا بھی سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی پر پنپتے ہیں۔ اس چیچک زدہ سماج کا گھناونا چہرہ پہچاننا کچھ اتنا مشکل نہیں ہے۔ تالپور اور جتوئ یا دیگر بدمعاش خاندان اس نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور اس نظام کو قائم رکھنے میں ہی ایسے مکروہ انسانوں کا فائدہ ہے۔ جمہوریت یا آمریت کی بحث کرنے سے پہلے بہت ضروری ہے کہ ہم پہلے بااثر لوگوں کے ہاتھوں یر غمال بنے نظام اور ریاست کو درست کرنے پر غور و فکر کریں۔ وگرنہ ہو سکتا ہے کہ اگلی دستک آپ کے در پر ہو یا اگلی کال بیل آپ کے گھر کی بجے اور نشے میں دھت کوئ تالپور ، شاہ رخ جتوئ یا مصطفی کانجو آپ کے بچوں کو بھی اڑا دے۔ ریاست کو یرغمال بنانے والی اس مکروہ اشرافیہ سے جان چھڑوانے کیلئے اپنی اپنی سیاسی اور عقائد کی واببستگیوں سے بالاتر ہو کر عمل کی ضرورت ہے مزمت کی نہیں۔

شئیر کریں