ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مستحکم ہوگا، پاکستا ن ایک محفوظ ملک بن گیا ہے،گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ کا بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے 14ویں کانووکیشن سے خطاب

ملتان،،،،،،،گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہاہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کاہونا انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی اعلیٰ خطوط پر تربیت کرنا ہے تاکہ وہ پاکستان کو مستحکم اور تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں۔ ایک وقت تھا جب تعلیم و تربیت دونوں کی بات کی جاتی تھی مگر اب تعلیم پر زیادہ اور تربیت پر کم توجہ دی جارہی ہے ۔ ہمیں ہمیشہ مثبت سوچ کو پروان چڑھانا ہے ۔ہمیں مثبت چیزوں کو سامنے لانا ہوگا تاکہ دنیا میں ہماری عزت وقاربلند ہو۔دنیا میں اس وقت بہت سارے چیلنجز ہیں ہمیں ان چیلنجز سے نبردآزما ہونا ہے ۔ یہ آپ کا‘ میرا اور تمام سیاسی جماعتوں کا پاکستان ہے ۔ تمام لوگ مخلص اور محب وطن ہیں ہمیں اپنے ذاتی اختلافات کی بجائے قومی ایشوز پر بات کرنی چاہئے اور اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مستحکم ہوگا۔ پاک افواج، پولیس اوردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت سے پاکستان کا امن بحال ہوا ہے ۔ کراچی کی روشنیاں لوٹ آئی ہیں اور پاکستا ن ایک محفوظ ملک بن گیا ہے۔ آرمی پبلک سکول کے بچوں کی قربانیوں کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے 14ویں کانووکیشن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین ، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر محمد مطاہر اقبال ، کنٹرولر امتحانات پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری، ڈینز پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر، پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود انصاری، ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز پروفیسر ڈاکٹر محمداشرف خان، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز بی زیڈ یو پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب ، ڈائریکٹر اوریک پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر،ریذیڈینٹ آفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر، مسلم لیگ ن کے رہنما ملک آصف رفیق رجوانہ،وائس چانسلر محمد نوازشریف زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر آصف علی ،وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین ظفر، وائس چانسلر این ایف سی انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر اختر علی کالرو،ممبر صوبائی اسمبلی مہدی عباس لنگاہ، ممبران سینڈیکیٹ بی زیڈ یو ڈاکٹر عمران شریف، ڈاکٹر مقرب اکبر، ڈاکٹر طاہر سلطان، ڈاکٹر حسنین نقوی،سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عاشق محمد درانی، ریٹائرڈ جسٹس میاں ظفر یٰسین، صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ملک اسرار احمد اعوان، سٹی پولیس آفیسر ملتان سرفراز فلکی ، سیاسی و سماجی شخصیات ، طلباء و طالبات اور ان کے والدین موجود تھے۔ گورنر پنجاب و چانسلر ملک محمد رفیق رجوانہ نے طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ آج جو ڈگری لے کر جارہے ہیں اس کے پیچھے آپ کے والدین ، اساتذہ اور ملک کا حصہ ہے جنہوں نے آپ کو آج اس مقام پرپہنچایا ہے۔ آپ نے اپنی تعلیم مکمل کرلی ہے اور اب عملی میدان میں جا کر اپنے ملک و قوم کی خدمت کرنی ہے۔ گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ ہمیں ہمیشہ مثبت سوچ رکھنی چاہئے بدقسمتی سے ہمارے ملک میں مثبت سوچ کو زیادہ پروموٹ نہیں کیاجاتا ۔ اگر ہم مثبت چیزیں دکھائیں گے تو معاشرے میں مثبت سوچ پیدا ہوگی اور دنیا میں ہمارا اچھا امیج بنے گا اور اگر منفی چیزیں دکھائی جائیں تو اس کے ساتھ اصلاح کی رہنمائی بھی کی جائے۔ہم سب کا اپنے ملک کے ساتھ ہی مستقبل وابستہ ہے۔ ہمیں پاکستان کے بارے میں فکرمند ہونا چاہئے مگر پریشان نہیں ۔ ناامیدی ویسے ہی گناہ ہے ناامیدی کو قریب نہ پھٹکنے دیں۔ مثبت چیزیں دیکھیں تاریک پہلو کو کم اور ختم کردیں۔ ہمیں تمام چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔ ہر چیلنج میں ایک اپرچنیوٹی ہوتی ہے اور ہمیں اچھی مینجمنٹ کے ذریعے چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے ۔ ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ ہم امن پسند لوگ ہیں۔ گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ بطور چانسلر میں تعلیم میں اعلیٰ کوالٹی کے بارے میں ہمیشہ فکرمند رہتا ہوں۔ ہمیں اپنی یونیورسٹیز میں تعلیم اور علم دونوں کو اکٹھے لے کر چلنا ہے اس کے بغیر ڈگری صرف کاغذ کا ٹکڑا ہے۔مجھے جنوبی پنجاب اور خاص طور پر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں کوالٹی ایجوکیشن پر بہت فکر ہوتی ہے ۔ گورنر پنجاب نے وائس چانسلر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور یونیورسٹی کی عظمت پر کوئی نشان نہ آنے دیں اور یونیورسٹی کے تمام معاملات کو احسن طریقے سے حل کیا جائے اور یونیورسٹی کی عزت پر کوئی حرف نہ آئے۔ گورنر پنجاب نے طلباء و طالبات سے مخاطب ہو کر کہا کہ آج آپ کو جو گولڈ میڈل ملے ہیں یہ اپنی ماؤں کی گود میں ڈالیں کہ ان کی دعاؤں اور محنت سے آپ آج اس مقام پر پہنچے ہیں اور عملی میدان میں پاکستان آپ کا منتظر ہے اور ہمیں پاکستان کی ترقی پر فخر ہے۔ گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ میں تمام ڈگریز اور گولڈ میڈلز لینے والوں طلباء و طالبات ، والدین،اساتذہ کرام ، وائس چانسلر اور سٹاف کے تمام لوگ جنہوں نے اس کانووکیشن کے لئے کام کیا کو مبارک باد پیش کرتاہوں۔ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین نے کہا کہ یونیورسٹی نے کم عرصے میں تیزی سے ترقی کی ہے اور بہت سے مسائل کو حل کرلیا گیا ہے ۔ یونیورسٹی میں میرٹ پر دو سو سے زائد اساتذہ کی بھرتی کی گئی ہے ،پی ایچ ڈی فیکلٹی ممبران میں اضافہ کیا گیا ہے اورتحقیق پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ ریسرچ پروڈکٹوٹی پروگرامز دئیے گئے ہیں ، شعبہ اوریک کو متحرک کیا گیاہے جس میں دو سو سے زائد 1ہزار ملین روپے کی ریسرچ پروپوزلزایچ ای سی کو بھجوائی گئی ہیں۔ بی زیڈ یو ایشیاء کی ٹاپ تین سو یونیورسٹیز کی لسٹ میں شامل ہوچکی ہے۔یونیورسٹی ایک چمک دار ستارے کی طرح ابھر رہی ہے میرٹ اور انصاف سے ہٹ کر کچھ نہیں کیا جائے گا، میرٹ پر پی ایچ ڈی سکالر شپس دئیے گئے ہیں۔ یونیورسٹی میں تمام معاملات احسن اندازمیں آگے بڑھائے جارہے ہیں۔تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے انفراسٹرکچر کو بھی بہترکیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ یونیورسٹی کی لائبریری اور لیبارٹریز کو بھی امپروو کیا گیا ہے اور انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی سپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا گیا جس سے کھیلوں کو فروغ ملا۔ طلباء و طالبات کی یونیورسٹی میں مختلف سوسائٹیز بنائی گئیں جس کے ذریعے ان کی تعلیمی و تخلیقی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔ یونیورسٹی میں ہونے والی ریسرچز کو مختلف صنعتی اداروں کے ساتھ منسلک کیا گیا تاکہ اس سے ملک وقوم کو فائدہ ہو۔

شئیر کریں