پنجاب کانسٹیبلری میں ہونے والے 23کروڑ روپے کی خردبرد کی انکوائری کا دائرہ کار وسیع کردیا گیا ہے ، فراڈ میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان ریجن امجد شعیب خان ترین کی نیوزکانفرنس

ملتان….. پنجاب کانسٹیبلری میں ہونے والے 23کروڑ روپے کی خردبرد کی انکوائری کا دائرہ کار وسیع کردیا گیا ہے اور مزید 31افراد کو شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔ اکاؤنٹس آفس کے کمپیوٹر آپریٹر شکیل احمد کے گھر سے شاپروں میں چھپائے گئے تقریباً 49لاکھ روپے برآمد کرلئے گئے ہیں اور اب تک مجموعی طور پر 72لاکھ روپے کی رقم برآمد کی گئی ہے۔ خردبرد پنجاب کانسٹیبلری کے ریٹائرڈ ہونے والے اور نوکری سے برخاست کردئیے جانے والے ملازمین کے نام پر تنخواہوں کی مد میں کی گئی اور اس بدعنوانی کے لئے ایک ایک ملازم کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے متعدد پرسنل نمبر الاٹ کئے گئے۔ اس کیس میں انکوائری کے لئے پنجاب کانسٹیبلری کے تین ڈپٹی کمانڈ نٹس کو سمن جاری کردئیے گئے ہیں۔ اس فراڈ میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔یہ بات ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان ریجن امجد شعیب خان ترین نے اپنے آفس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کانسٹیبلری میں کرپشن کا معاملہ سامنے آنے پر چند ماہ قبل مقدمہ درج کیا گیا اور اب تک 11ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے گرفتار کمپیوٹر آپریٹر شکیل احمد کی نشان دہی پر اس کے گھر سے شاپروں میں چھپائی گئی49لاکھ روپے برآمد کر لئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس فراڈ میں کمپیوٹر آپریٹر شکیل احمد کا اہم کردار ہے۔جس نے پنجاب کانسٹیبلری سے نوکری چھوڑ کر جانے والوں یا برخاست کردئیے جانے والوں میں سے ایک ایک فرد کو متعدد پرسنل نمبر جاری کئے۔ ان میں سے بعض کو 41پرسنل نمبر ایک ملازم کو 71جعلی پرسنل نمبرجاری کئے گئے اور ان کے نام پر بنک اکاؤنٹس کھلوائے گئے۔ جس میں تنخواہ کے فنڈز منتقل کئے جاتے تھے اور پھر کیش کرائے جاتے تھے۔امجد شعیب خان ترین نے بتایا کہ اصولاً ایک سرکاری ملازم کو صرف ایک پرسنل نمبر الاٹ کیا جاتا ہے جس کے ذریعے اس کے بنک اکاؤنٹ میں تنخواہ وغیرہ منتقل ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کانسٹیبلری کے ایڈیشنل آئی جی کے جعلی دستخطوں سے تعیناتی کے آرڈر تیار کئے جاتے اور بل تیار کرنے کے بعد نائب قاصد انہیں اکاؤنٹس آفس میں جمع کراتا تھا۔ اس طرح 23کروڑ روپے کا گھپلا کیا گیا۔ امجد شعیب خان ترین نے بتایا کہ خردبرد کی گئی رقم کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پنجاب کانسٹیبلری کے دو سابقہ اور ایک موجودہ ڈپٹی کمانڈنٹس جن میں میاں عرفان، باقر اور محمود الحسن شامل ہیں، انہوں نے بلوں پر ہونے والے دستخطوں کو جعلی قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے انہیں شامل تفتیش کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے اجازت طلب کر لی گئی ہے اور مذکورہ بالا تینوں افسران کو شامل تفتیش ہونے کے لئے سمن جاری کردئیے گئے ہیں جن کے دستخطوں کا فرانزک تجزیہ کرایا جائے گا اور اگر دستخط صحیح ثابت ہوگئے تو انہیں بھی گرفتار کرلیاجائے گا۔ انہوں نے افسران کی گرفتاری کے بعد خرد برد کی گئی رقم کی برآمدگی کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کیس کے حوالے سے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ امجد شعیب خان ترین نے کہا کہ دفاتر میں کمپیوٹر سسٹم آنے کے بعد کمپیوٹرز پر کام کرنے والے ملازمین خرابی پیدا کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں جنہیں خاص طورپر چیک کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کمپیوٹر میں ایک ڈیجٹ تبدیل کرنے سے لاکھوں روپے کا فرق آجاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی ہدایت پر لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم میں گڑ بڑ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ریکارڈ میں جان بوجھ کر ردوبدل کر کے زمین کے مالکان سے ریکارڈ دوبارہ ٹھیک کرنے کے لئے رشوت طلب کی جاتی ہے۔

شئیر کریں