فاٹا کے انضمام کے مسئلے میں ہماری جماعت فریق نہیں،فاٹا کے مسئلے کو فاٹا کے عوام اور جرگہ کے اتفاق سے حل کیا جائے، فضل الرحمن

ملتان……..جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فاٹا کے انظمام کے مسئلے میں ہماری جماعت فریق نہیں،فاٹا کے مسئلے کو فاٹا کے عوام اور جرگہ کے اتفاق سے حل کیا جائے۔ حکومت اپنی مدت پوری کر چکی ہے، اب کوئی نیا اتحاد بنے گا تو وہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے بنے گا ، آئندہ الیکشن کے لئے متحدہ مجلس عمل کو فعال کیا جارہا ہے ۔ملتان میں مشائخ پیر آف تونسہ شریف کے صدر خواجہ عطاء اللہ تونسوی کی رہائش گاہ پر کی گئی ملاقات اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ فاٹا کے معاملہ وہاں کی عوام کی رائے اور باہمی اتفاق سے معاملہ طے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ متنازع صورت میں خود فاٹا کے اندر بھی ایسے فیصلے جو جو اسلام آباد سے مسلط کئے جائینگے، وہ زیادہ مقبول نہیں ثابت ہو سکیں گے۔ اگر فاٹا کے اندر قبائلی عوام آپس میں کوئی دو رائے رکھتے ہیں تو ان کو بھی آپس میں بیٹھ کر مشاورت سے ایک موقف کی طرف جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دھرنا ہو یا کہیں اور دھرنے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے جو بھی بات کی ہے, دھرنے سے بالا تر ہو کر بات کی ہے ،حکومت کے خلاف کوئی الائنس تشکیل نہیں دیا جارہا ہے بلکہ عام انتخابات کے حوالے سے علماء ،مشائخ سے ملاقاتیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت کے خلاف اتحاد اگر کوئی بن بھی گیا تو فائدہ نہیں ہو گا ،طاہر القادری سے متعلق مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک سانحہ پر اپنی سیاست کو مرکوز کرنا درست نہیں، سیاست میں مشکلات مصیبتیں بھی آتی ہیں ان کو عبور کر کے آگے جانا چاہیے۔علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمن نے دیگر علماء کرام و مشائخ سے ملاقاتیں کیں اور جے یو آئی (ف ) کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی ۔

شئیر کریں